گوا کے چرچ نے مودی حکومت کا جرمنی کے نازیوں سے کیا موازنہ ، ملک میں آئینی ہولوکاسٹ جیسی صورتحال

Aug 18, 2017 01:14 PM IST | Updated on: Aug 18, 2017 01:14 PM IST

گوا : گوا کے چرچ کی طرف سے کام کرنے والی ایک میگزین میںمودی حکومت کا موازنہ جرمنی کی نازی حکومت سے کیا گیا ہے۔ میگزین میں شائع ایک مضمون میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ ملک میں ئینی ہولوکاسٹ جیسی صورتحال ہے۔ مضمون میں گوا کے ووٹروں سے پورے ملک میں پھیلی آمریت پر لگام لگانے کے لئے فرقہ وارانہ طاقتوں کے خلاف ووٹ کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

پنجی کے ایک گرجاگھر بشپس ہاؤس کی طرف سے شائع اس میگزین کے ایڈیٹر فادر الیکسو مینیجس ہیں ۔ میگزین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں سب سے بڑا مسئلہ فساد یا سیکولرزم نہیں ہے، لیکن آزادی اب سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مضمون میں وزیر اعلی منوہر پاریکر پر بھی بالواسطہ طور پر نشانہ لگاتے ہوئے ووٹروں سے غیر مناست کردار والے لوگوں اور پورے ملک میں پھیلی آمریت سے براہ راست طور پر متفق ہونے والے لوگوں کے خلاف ووٹ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

گوا کے چرچ نے مودی حکومت کا جرمنی کے نازیوں سے کیا موازنہ ، ملک میں آئینی ہولوکاسٹ جیسی صورتحال

مضمون میں کہا گیا ہے کہ 'سال 2012 میں تمام گوا کو بدعنوانی آزاد کرانے کے بارے میں سوچ رہے تھے، جو 2014 تک چلا ، لیکن اس کے بعد سے جو ہندوستان میں جس چیز کو تیزی سے بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں وہ کچھ اور نہیں بلکہ آئینی ہولوکاسٹ ہے۔ فساد ایک بری بات ہے، فرقہ پرستی اس سے بھی بدتر ، لیکن نازی واد ان دونوں سے بدتر ہے۔

مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ 'جس کسی نے بھی ولیم شيرر کی کتاب دی رائز اینڈ فال آف دی تھرڈ ریجن یا ایلن بلك کی کتاب اے اسٹڈی آف ٹائریني 'یا ہٹلر کی سوانح عمری مین کیمف پڑھی ہے، وہ ترقی اور بربادی کے درمیان غیر معمولی مساوات اور 1933 کے نازی وادی جرمنی اور 2014 کے ہندوستان میں مماثلت کو دیکھ سکتا ہے۔

مضمون میں مزید لکھا گیاہے کہ 'پورا ملک صرف ایک یا دو شخص کے ذریعہ چلایا جا رہا ہے، باقی لوگ معمولی یا اندھ بھکت ہیں۔ برائے مہربانی اپنے ووٹ کو ایسے شخص کو مت دیں، جو اس طرح کے لوگوں کے پیروکار ہیں۔ آزادی، جمہوریت اور سیکولرزم کی اہمیت بدعنوانی سے کہیں زیادہ ہے۔ بدعنوانی ہی بہتر تھی ، اگر وہ ہمیں اپنی بات رکھنے ، کھانے پینے اور سیاسی آزادی رکھنے نے کی آزادی دیتے ہیں تو پھر بدعنوانی کو اقتدار دیں۔مضمون میں کہا گیا ہے کہ پنجی اسمبلی سیٹ کے لئے 23 اگست کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں پاریکر کے خلاف ووٹ کریں ۔ ہندوستانی جمہوریت میں آئی گراوٹ کو روکنے کا ایک موقع ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز