اب مال گاڑی کے 2 ڈبے پٹری سے اترے ، ٹرین حادثات روکنے کے لئے اعلی سطحی میٹنگ

Sep 07, 2017 11:57 PM IST | Updated on: Sep 07, 2017 11:57 PM IST

ممبئی: ممبئی سے کچھ دور مانکجے پہاڑی اور کھنڈالا کے مابین کلیان۔ لوناوالا ڈویژن میں ایک مالگاڑی ٹرین کے دو ڈبے پٹری سے اتر گئے جس سے اس لائن پر ٹرینوں کی آمدورفت ٹھپ ہوگئی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق آج دوپہر مالگاڑی کے دو ڈبے پٹری سے اتر جانے کی وجہ سے کچھ ٹرینوں کو رد کردیا گیا اور کچھ ٹرینوں کے راستوں میں تبدیلی کی گئی ہے اور کچھ کو تھوڑے وقت کیلئے روکا گیا ہے۔ پٹری سے اترے ہوئے ڈبوں کو پٹری پر لانے کا کام شروع ہوگیا ہے۔

ادھر نئی دہلی میں ریلوے اور کوئلہ کےوزیر پیوش گوئل نے آج ٹرین چلانے کےلئے حفاظتی اقدامات کا ایک جامع جائزہ لینے کی غرض سے ریلوے بورڈ اور سیفٹی ڈائریکٹوریٹ آف ریلوے بورڈ کے ارکان کےساتھ ایک میٹنگ کا انعقاد کیا۔ میٹنگ میں تحفظ سےمتعلق ایک تفصیلی پریزینٹیشن پیش کیا گیا۔ اس دوران حفاظت سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا اور حالیہ دنوں میں متعدد بارپیش آنے والے ٹرین حادثات کا مکمل طور پر تجزیہ کیا گیا۔ میٹنگ میں وزیر موصوف نے اس بات پر زور ڈالا کہ حفاظت کا معاملہ انتہائی اہم ہے اور اس محاذ پر کسی بھی طرح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

اب مال گاڑی کے 2 ڈبے پٹری سے اترے ، ٹرین حادثات روکنے کے لئے اعلی سطحی میٹنگ

file photo

میٹنگ میں ٹرین کےپٹریوں سے اتر جانے کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں کمی لانے سےمتعلق اقدامات کی نشاندہی کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ٹرین کا پٹریوں سے اتر جانا ٹرین حادثات کی ایک اہم وجہ بن کر سامنے آیا ہے۔ ریلوے کے وزیر نے ٹرین چلانے میں حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ریلوے بورڈ ہدایت دیں کہ پورے انڈین ریلوے نیٹ ورک میں جو بغیر چوکیدار والےریلوے پھاٹک ہیں، انہیں ابھی سے ایک سال کے اندر ختم کردیاجانا چاہئے۔

پٹریوں کو بدلنے ، نئی پٹریاں بچھانے کو ترجیح دی جانی چاہئے اور وہ پٹریاں جو نئی لائنوں کی تعمیر میں استعمال کےلئے مختص کی گئی ہیں انہیں ان مقامات پر بھیج دیا جائے جو حادثات سے متاثر ہیں اور جہاں پٹریوں کوبدلنے کا کام ہونا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑے پیمانے پر نئےریل کی خریداری کے عمل میں تیزی لانی چاہئے تاکہ وقت پر نئی لائنوں کی تعمیر کا کام مکمل ہوسکے۔

روایتی آئی سی ایف ڈیزائن کو چ بنانے کا کام فوی طور پر روک دینا چاہئے اور نئے ڈیزائن والے ایل ایچ بی کوچ کی ہی مینوفیکچرنگ کی جانی چاہئے۔ اس کے علاوہ ریل انجنوں میں انسداد دھند ایل ای ڈی لائٹس لگائی جانی چائیں تاکہ دھند کے موسم میں ٹرین کو محفوظ طو ر پر چلایا جاسکے۔ وزیر نے ریلوے بورڈ کو ہدایت دی کہ وہ مستقل بنیاد پر اس ایکشن پلان کے نفاذ پر نظر رکھیں۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز