معروف اردو ادیب عبدالقوی دسنوی کو گوگل نے پیش کیا خراج عقیدت

Nov 01, 2017 03:09 PM IST | Updated on: Nov 01, 2017 03:09 PM IST

ممبئی۔ گوگل نے آج اپنے ڈوڈل کے ذریعے اردو کے مشہور مصنف اور ادیب اور مبصر عبدا لقوی دسنوی کی 87 ویں سالگرہ مناتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ عبدالقوی نے ہندوستان میں اردو ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے کے دوران اردوادب کے فروغ کے لیے کئی کتابیں لکھیں اوران کاانتقال 7 جولائی، 2011 کو ہوا۔ انکے اعزاز میں گوگل نے اپنی علامت ڈوڈل(لوگو) کو اردو طرزا سکرپٹ میں ڈیزائن کیا ہے۔

مرحوم دسنوی نے پانچ دہائیوں سے زیادہ کے اپنے کیریئر میں اردو ادب میں کئی کتابیں لکھیں اور ان کا اہم کام مولانا ابوالکلام آزاد، غالب اور اقبال پرمشتمل تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے شاعری اور افسانے بھی لکھے اور انہیں ان کے ادبی خدمات کے لئے بہت سے اعزاز سے نوازا گیا۔ واضح رہے کہ عبدالقوی دسنوی کا تعلق سید سلیمان ندوی کے خاندان سے تھا۔عبدالقوی دسنوی ہندوستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے مصنف، نقاد، کتابیات ساز، اور ماہر السنہ تھے۔ انہوں نے اردو ادب پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ ان کا اہم ترین کام مولانا ابوالکلام آزاد، مرزا اسداللہ خان غالب اور محمد اقبال پر تھا۔ وہ اپنے کاموں کے لیے کئی ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔ عبدالقوی دسنوی کی ولادت دیسنا، بہار کے گاؤں کے آستھاوان بلاک میں 1930میں ہوئی تھی۔ یہ بہار کے نالندا ضلع میں آتا ہے۔ ان کا خاندان نامور عالم دین سید سلیمان ندوی سے تعلق رکھتا ہے۔

معروف اردو ادیب عبدالقوی دسنوی کو گوگل نے پیش کیا خراج عقیدت

مرحوم دسنوی نے پانچ دہائیوں سے زیادہ کے اپنے کیریئر میں اردو ادب میں کئی کتابیں لکھیں اور ان کا اہم کام مولانا ابوالکلام آزاد، غالب اور اقبال پرمشتمل تھا۔

دسنوی سید محمد سعید رضا کے فرزند تھے جو سینٹ زیوئرس کالج، ممبئی میں اردو، عربی اور فارسی زبان کے پروفیسر تھے۔ دسنوی کے دو بھائی تھے۔ بڑے بھائی پروفیسر سید محمد محی رضا اور چھوٹے بھائی سید عبدالوالی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بہار کے اراہ میں مکمل کی۔ انہوں نے سینٹ زیوئرس کالج، ممبئی سے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن اول درجے میں مکمل کیا۔وہ فروری 1961ء میں سیفیہ پوسٹ گریجویٹ کالج میں لیکچرار مقرر ہوئے۔ وہیں وہ پروفیسر اور صدر شعبہ اردو بنے۔ انہیں ایک ادیب کے طور پر شہرت ملی ۔ وظیفے کے بعد وہ کئی اعزازی عہدوں پر فائز ہوئے جن میں حسب ذیل شامل تھے،ان میں جوائنٹ پرنسپل، سیفیہ پوسٹ گریجویٹ کالج، بھوپال،معتمد، مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی، بھوپال، منتخب رکن انجمن عام ترقی اردو (ہند)، نئی دہلی ،رکن آل انڈیا انجمن ترقی اردو بورڈ، نئی دہلی،صدرنشین، بورڈ آف اسٹڈیز، اردو، فارسی وعربی، برکت اللہ یونیورسٹی، بھوپال،ڈین، فیکلٹی آف آرٹس،برکت اللہ یونیورسٹی رکن مجلس عاملہ، تاج المساجد، بھوپال شامل ہیں۔

جبکہ ان کی کتابوں میں یادگارِ سلیمان،ایک شہر پانچ مشاہیر،اقبال انیسویں صدی میں،متاع حیات (سوانح)،بمبئی سے بھوپال تک،اْردو شاعری کی گیارہ آوازیں،ابوالکلام آزاد،اقبال کی تلاش،اقبال اور دارالاقبال بھوپال،مطالعہ غبار خاطر،تلاش و تاثر،سات تحریریں،مطالعہ خطوط غالب،بھوپال اور غالب،علامہ اقبال بھوپال میں،حسرت کی سیاسی زندگی اورایک اور مشرقی کتب خانہ ہیں۔

مرحوم دسنوی 1990 میں پوسٹ گریجویٹ کالج، بھوپال سے ریٹائر ہوئے۔شاعر اور نغمہ نگارجاوید اختر اور اقبال مسعود سمیت ان کے بہت سے شاگرد ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز