بھیونڈی میں پاورلوم صنعتیں تباہی کے دہانے پر، جی ایس ٹی کے آنے سے چھوٹے کارخانے متاثر

ملک میں ان دنوں وہ کاروبار جس سے زیادہ تر مسلمان جڑے ہیں وہ انتہائی مندی کا شکار ہے ۔

Jul 25, 2017 08:23 PM IST | Updated on: Jul 25, 2017 08:23 PM IST

بھیونڈی۔ کسی دور میں ہمارے ملک کی پہچان رہے گھریلو صںعتوں میں بننے والے سوتی کپڑے ہوا کرتے تھے۔ یہ صنعت اور یہ کاروبار اتنا عروج پر تھا کہ کسانوں کا دیش کہلانے والے ہمارے ملک ہندوستان میں کسانوں کے بعد سب سے زیادہ جس پیشہ سے لوگ منسلک تھے وہ کپڑے بننے والا کاروبارہی تھا ۔ پہلے چرخہ، پھر ملیں اور پھر پاورلوم انڈسٹریز کے نام سے اس گھریلو صںعت نے حالات اور بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ اپنا نام اور چال ڈھال بھی بدل لیا۔ ملک بھر میں آج بھی کئی بڑے شہر ایسے ہیں جن کا انحصار پاورلوم صنعتوں پر ہی ہے۔ ان میں گجرات، مالیگاؤں، اچل کرنچی ، اور بھیونڈی ہیں ۔ ان میں بھی سب سے زیادہ پاورلوم بھیونڈٰ ی میں ہیں۔ اوراسی سبب کسی دور میں بھیونڈی کو ہندوستان کا مانچسٹر بھی کہا جاتا تھا ۔ آج بھی یہاں 10 لاکھ سے زائد پاور لوم ہیں لیکن حکومت کی بار بار بدلتی پالییسوں کے سبب ان میں سے 60 فیصد لوم بند ہوچکے ہیں ۔ جو بچے بھی ہیں تو اب نئے ٹیکس قانون جی ایس ٹی کے سبب تذبذب میں ہیں ۔

ملک میں ان دنوں وہ کاروبار جس سے زیادہ تر مسلمان جڑے ہیں وہ انتہائی مندی کا شکار ہے ۔ جس میں گوشت کا کاروبار، ہڈیوں کا کاروبار، چمڑے کا کاروبار، اسی طرح گلف بھیجنے کےکام ٹراویلس ایجنیسی اور پاور لوم صنعتیں جس سے ملک بھر میں بڑی تعداد میں مسلمان وابستہ تھے وہ بھی انکے ہاتھوں سے جاتی نظر آ رہی ہے ۔ جس کے سبب مسلم طبقہ جو پہلے ہی سرکاری نوکریوں سے محروم تھا ، ان میں بے روزگاری کی شرح میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے جو کہ کسی المیہ سے کم نہیں ۔ کہتے ہیں کہ بھیونڈی میں پاورلوم کے چکے چلتے ہیں تو شہر کا دل دھڑکتا ہے ۔ بھیونڈی کی پاورلوم صنعتوں کو گویا کسی کی نظر لگ گئی ہے ۔ گذشتہ کچھ برسوں میں مرکزی و صوبائی حکومتوں کے بدلتے رویے اور قوانین کے سبب اس صنعت میں کئی بار مندی و تیزی آ چکی ہے لیکن ہر بارمندی زیادہ اور تیزی کم ۔  کبھی ایل بی ٹی اور اب جی ایس ٹی ۔ ایسے میں شہر کی زیادہ تر صنعتیں بند ہیں اور کاروبار ٹھپ ہیں ۔

بھیونڈی میں پاورلوم صنعتیں تباہی کے دہانے پر، جی ایس ٹی کے آنے سے چھوٹے کارخانے متاثر

بھیونڈی پاورلوم مالکان کہنا ہے کہ جی ایس ٹی حالانکہ بہت اچھا قانون ہے لیکن اس کی معیاد جو 20 لاکھ ہے وہ بہت کم ہے ۔ اس میں چھوٹے پاورلوم  یا چھوٹی انڈسٹریز ، چھوٹے کاروبار کو اس ایکٹ سے پرے رکھنا چاہئے تھا ۔ 20 لاکھ کے بجائے اسی معیاد 60 لاکھ تک کی جانی چاہئے ۔ پاورلوم میں بجلی کا بل، ٹرانسپورٹ، مزدور کی تنخواہ ، یارن ، مشین اور دیگر کئی اخراجات ہوتے ہیں۔ ایسے میں الگ سے ایک سی اے اور اکاؤنٹنٹ کا بوجھ چھوٹی صنعتیں برادشت نہیں کرسکیں گی ۔ جی ایس ٹی کے متعلق ملک کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ ایک ٹیکس ایک ملک قانون ہے جب کہ کارباریوں کا کہنا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے۔ وزیر اعظم کا بیان کچھ ہے اور مارکیٹ میں چل کچھ رہا ہے ۔ کوئی ایک سامان تیار کرنے کے لئے جتنے پرزے یا جتنا مٹریل خریدنا پڑتا ہے سب پرجی ایس ٹی لیا جا رہا ہے اور اسکے بعد ان پرزوں یا ان مٹریلس سے مکمل ہو اشیئا کے بننے کے بعد اس پر بھی جی ایس ٹی بھرنا ہوتا ہے۔ اورجب وہی چیز مارکیٹ میں جاتی ہے تو اس کا خریدار اور اسے فروخت کرنے والا بھی جی ایس ٹی ادا کر رہا ہے ۔

یہی حال پاورلوم صنعت میں بھی دھاگے پر جی ایس ٹی، تیار ہونے والے کچےکپڑے پر جی ایس ٹی، کپڑا جب دھلنے یا کیمکل کمپنی میں کلر کرنے و ڈئیزائن کے لئے جاتا ہے تو اس پر بھی جی ایس ٹی لگ رہا ہے، جس کے سبب پاورلوم مالکان انتہائی کسمپرسی میں ہیں اور بھیونڈی سے ایک وفد جلد ہی ریاست کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرنے والا ہے کہ اس کا کوئی متبادل حل نکالا جائے ۔ جی ایس ٹی کو لیکر خود سی اے اور اکاؤنٹس سے منسلک لوگوں کو بھی ماننا ہے

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز