جی ایس ٹی کے نفاذ سے پاورلوم صنعت برباد، کروڑوں میٹر کپڑا گوداموں میں، کوئی خریدار نہیں

Jul 20, 2017 08:53 PM IST | Updated on: Jul 20, 2017 08:53 PM IST

مالیگاؤں۔ جی ایس ٹی نافذ ہونے کے بعد سے مالیگاؤں شہر کی پاورلوم صنعت ٹھپ ہوچکی ہے۔ مالیگائوں شہر کے ڈھائی لاکھ پاورلوم جیسے تیسے چل رہے ہیں۔ کروڑوں میٹر کپڑا بن کر تیار ہےکوئی خریدار نہیں ۔ گجرات اور دیگر ریاستوں میں کپڑا کاروباریوں کی ہڑتال کی وجہ سےمالیگاؤں شہرکا بنکر پریشان ہے۔ لاکھوں مزدور وں کے بے روز گار ہونے کا اندیشہ ہے ۔ اس لئےمجبوراً ہفتے میں کچھ دنوں تک کارخانے چلائے جارہے ہیں مگر حالات میں سدھار نہیں ہوا تو شہر کی صنعت برباد ہوجائیگی ۔

مہاراشٹر میں مالیگاؤں شہر جسے پاورلوم کا مانچسٹر کہا جاتا ہے۔ فی الحال جی ایس ٹی کے نافذ ہونے کے بعد سے نہایت خراب حالات سے گذر رہا ہے ۔ ڈھائی لاکھ پاورلوم پر روزآنہ 20 لاکھ میٹر کپڑا تیار ہوتا ہے ۔ اس کپڑے کا کوئی خریدار ہی نہیں ہے اسلئے تیار کپڑا بنکروں کے گوداموں میں پڑا ہوا ہے ۔ مزدوروں کی مزدوری دینےکے لئے پیسے نہیں ہیں مدد کی طور پر کچھ دن کارخانے چلائے جا رہے ہیں مگر ایسا کرنا زیادہ دنوں تک ممکن نہیں ہے۔ سرکار کو چاہئے کہ اس صنعت کی بقا کے لئے کچھ ٹھوس قدم اٹھائے ۔

جی ایس ٹی کے نفاذ سے پاورلوم صنعت برباد، کروڑوں میٹر کپڑا گوداموں میں، کوئی خریدار نہیں

چاردن پہلے مالیگاؤں پاورلوم ادھوگ وکاس سمیتی کی جانب سے شہر کے ایڈیشنل کلکٹرکے دفتر کے سامنے ’جی ایس ٹی ہٹاؤ۔ پاورلوم بچاؤ ‘ اس نعرے کے ساتھ دھرنا  بھی دیا گیا۔ بنکر تنظیموں نے مرکزی اور ریاستی حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ کپڑے کی صنعت پر جی ایس ٹی نہ لگایا جائے ۔ یہ صنعت ایسی ہیکہ جسمیں غریب بنکر شامل ہیں ۔ اگر جی ایس ٹی لگایا گیا تو یہ بنکر پوری طرح برباد ہوجائیگا ۔ جی ایس ٹی ہٹاؤ کے اس دھرنے میں کل جماعتی تنظیم اور شہر کی سیاسی پارٹیاں بھی شامل تھیں ۔ گجرات میں چل رہے کپڑا کاروباریوں کی تحریک کو حمایت دینے کا اعلان بھی کیا گیا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز