گجرات کے اس ضلع میں نہیں چلا وزیر اعظم مودی کا جادو ، بی جے پی کا سوپڑہ صاف

گجرات کے وزیر اعلی کے طور پر نریندر مودی نے اپنی آخری میعاد میں ریاست میں تین نئے اضلاع کی تشکیل کی تھی ۔ ان میں سابرکانٹھا سے الگ ہوکر بنایا گیا اراولی ضلع بھی شامل تھا

Dec 18, 2017 10:02 PM IST | Updated on: Dec 18, 2017 10:04 PM IST

احمد آباد : گجرات کے وزیر اعلی کے طور پر نریندر مودی نے اپنی آخری میعاد میں ریاست میں تین نئے اضلاع کی تشکیل کی تھی ۔ ان میں سابرکانٹھا سے الگ ہوکر بنایا گیا اراولی ضلع بھی شامل تھا ۔ ضلع کی تین سیٹوں پر اب تک کانگریس کا قبضہ تھا اور اس مرتبہ بھی یہاں مودی میجک نہیں چلا اور تینوں سیٹوں پر کانگریس امیدوار نے کامیابی حاصل کی ۔

اس ضلع میں کل تین سیٹیں بھلودا ، موداسا اور بیاد شامل ہیں ۔ ان میں ایک سیٹ درج فہرست ذات کیلئے ریزرو ہے جبکہ دو سیٹیں جنرل ہیں ۔ موڈاسا سے بی جے پی کے پرمار بھکھو سنگھ جی چترسنگھ جی اور کانگریس کے ٹھاکر راجیندر سنگھ شیو سنگھ میدان میں ہیں ۔ 2012 کے انتخابات میں ٹھاکر راجیندر سنگھ شیو سنگھ نے بی جے پی کے دلیپ سنگھ جی پرمار کو 22858 ووٹوں سے ہرایا تھا جبکہ اس مرتبہ راجیندر سنگھ نے بھکھو سنگھ جی کو انتہائی قریبی مقابلہ میں صرف 147 ووٹوں سے ہرایا ۔

گجرات کے اس ضلع میں نہیں چلا وزیر اعظم مودی کا جادو ، بی جے پی کا سوپڑہ صاف

بھلواد اسمبلی سیٹ سے بی جے پی نے آئی پی ایس افسر پی سی برنڈا پر داو لگایا تھا اور کانگریس نے یہاں سے پانچ مرتبہ کے ممبر اسمبلی ڈاکٹر انل جوشیار کو ہی دوبارہ اپنا امیدوار بنایا تھا ۔ یہاں بھی جوشیارا کا دبدبہ قائم رہا اور انہوں نے بارہ ہزار سے زیادہ ووٹوں سے جیت حاصل کی ۔

ضلع کی تیسری سیٹ پر دلچسپ مقابلہ تھا ۔ بیاد اسمبلی سیٹ سے بی جے پی کے ادے سنگھ چوہان اور کانگریس کے دھول سنگھ نریندر سنگھ جالا انتخابی میدان میں تھے ۔ کانگریس امیدوار نے یہاں آٹھ ہزار سے زیادہ ووٹوں سے جیت حاصل کی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز