گجرات بورڈ میں آٹو ڈرائیور کی بیٹی فرحانہ نے نام کیا روشن ، 99.72 فیصد نمبرات لائے ، پھر بھی بھنور میں مستقبل

May 12, 2017 09:00 PM IST | Updated on: May 12, 2017 09:01 PM IST

احمد آبد : گجرات میں 12 ویں کلاس کی سائنس کے امتحان کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ 11 مئی کو جب امتحان کے نتائج کا اعلان کیا گیا ، تب فرحانہ کے خاندان کی خوشی ٹھکانہ نہ رہا ہے، کیونکہ اس امتحان میں آٹو ڈرائیور فارق بھائی کی بیٹی فرحانہ نے 99.72 فیصد نمبرات حاصل کئے تھے ۔ شروع میں میڈیکل اسٹریم میں بیٹی فرحانہ کے اتنے نمبرات لانے پر خاندان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا ، لیکن مالیاتی رکاوٹوں کی وجہ سے اب بیٹی کے مستقبل کو لے کر بحران پیدا ہوگیا ہے۔ بیٹی کے امتحان میں اتنے حاصل کرنے پر بھی فرحانہ کی ماں شمیمہ ​​بواني کہتی ہیں کہ کوئی خوشی نہیں ہے ہمیں۔ ماں آگے کہتی ہیں کہ گجراتی ہونے کی وجہ سے ہمارا خاندان خوش نہیں ہے کیونکہ نیٹ کا انگریزی میں جو امتحان تھا وہ ایک دم الگ تھا، جبکہ گجراتی زبان کا امتحان سے زیادہ مشکل تھا۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق شمیمہ ​​بواني مزید کہتی ہیں کہ یہ مشترکہ امتحان کے نتائج فرحانہ اور اس کے ساتھ ہزاروں طالب علموں کے لئے بالکل بھی انصاف ہم آہنگ نہیں ہو گا۔ فرحانہ کی ماں کہتی ہیں کہ اس سے تمام طلبہ میں مایوسی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ میری بیٹی نے اس امتحان کے علاوہ دیگر کسی آپشن پر غور نہیں کیا تھا، ہماری اب صرف ایک ہی دعا ہے کہ حکومت گجراتی اور انگریزی میڈیم کے امتحان کے نتائج الگ الگ اعلان کرے۔ ہو سکتا ہے اس میں بیٹی کو کوئی آپشن مل جائے۔

گجرات بورڈ میں آٹو ڈرائیور کی بیٹی فرحانہ نے نام کیا روشن ، 99.72 فیصد نمبرات لائے ، پھر بھی بھنور میں مستقبل

احمد آباد کے رائے کھنڈ علاقہ میں رہنے والی فرحانہ کی ماں کہتی ہیں کہ ان کی بیٹی نے چاروں سمسٹر میں اچھے نمبرات حاصل کئے، اس نے کافی محنت کی ، لیکن اس کا کیا مطلب تھا۔ دو سال کے لئے میری بیٹی سونا اور کھانا دونوں بھول گئی تھی، اس نے اپنا سارا وقت صرف پڑھائی میں ہی گزارا۔ فرحانہ کی ماں شمیمہ ​​بواني کے مطابق بیٹی کا بچپن سے صرف ایک ہی خواب تھا کہ وہ بڑے ہوکر ڈاکٹر بنے۔ بیٹی نے والدین سے متاثر ہوکر دیگر موضوعات کے مقابلہ میں سائنس کو ہی اپنا مین سبجیکٹ منتخب کیا۔

وہیں نیٹ کا امتحان الگ ہونے پر جمال پور کے ایف ڈی ہائی اسکول میں پڑھنے والی فرحانہ کہتی ہیں کہ نیٹ کا گجراتی زبان کا پرچہ انتہائی مشکل تھا ، جبکہ انگریزی زبان میں آیا نیٹ کا پرچہ بہت آسان تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ نیٹ امتحان کے ضوابط انتہائی مشکل تھے۔ فرحانہ کے مطابق امتحان سے پہلے ان کو پورا یقین تھا کہ امتحان کا نتیجہ بہت اچھا آئے گا اور مجھے فری ایم بی بی ایس کی سیٹ ملے گی، مگر میرا پیپر اچھا نہیں ہوا۔

قابل ذکر ہے کہ پانچ ارکان والے فرحانہ کے کنبہ میں والد مہینے میں تقریبا 8 سے 10 ہزار ہی کما پاتے ہیں۔ فرحانہ کے کنبہ نے بیٹی کو اعلی تعلیم دلانے کے لئے کافی محنت کی ہے ۔ کیونکہ خاندان کا خیال تھا ان کے خاندان میں بیٹی پہلی رکن ہوگی جوکہ اپنا خواب پورا کرے گی اور اعلی تعلیم حاصل کرے گی۔ وہیں فرحانہ کے والد فارق بھائی کہتے ہیں کہ میں نے 12 ویں تک تعلیم حاصل کی ہے ، جبکہ بیوی 10 ویں تک تعلیم یافتہ ہے۔ ہمارے خاندان کے کسی رکن نے 12 ویں سے آگے کی تعلیم نہیں کی ۔ بیٹی ہی کنبہ کی ایسی پہلی فرد ہوتی جوکہ کلاس 12 سے آگے کی تعلیم حاصل کرتی۔

فرحانہ نے بتایا کہ ان کے والد آٹوركشا چلاتے ہیں ، اس لئے خاندان میں اقتصادی پریشانی برقرار رہتی ہے ، لیکن پھر بھی خاندان نے پڑھائی کو لے کر پوری مدد کی۔ تعلیم سے متعلق ہر چیز مجھے مہیا کرائی۔ فرحانہ کہتی ہیں کہ یہ کبھی مت سوچو تمہاری اقتصادی حالت اچھی نہیں ہے ، تو آپ کو کچھ کر نہیں سکتے، محنت سے سب کچھ ممکن ہو جاتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز