گجرات کانگریس مائنارٹی سیل کی ميٹنگ تنازع کا شکار ، صرف ہاں میں ہاں ملانے والوں کو بلانے کا الزام

Oct 20, 2017 09:19 PM IST | Updated on: Oct 20, 2017 09:19 PM IST

احمد آباد : گجرات کانگریس کی مائنارٹی سیل کی ميٹنگ تنازعات میں پھنس گئی ۔ کانگریس کے ہی سینئر ليڈروں نے کانگریس کے مائنارٹی سیل کی ميٹنگ پر سوالات کھڑے کئے ہیں اور اسے ایک مخصوص گروپ تک محدود میٹنگ قرار دیتے ہوئے ہائی کمان پر نشانہ سادھا کہ اس میں اقلیت کے صحیح مدعے اور مسائل نہیں اٹھائے گئے ۔

کانگریس پارٹی کی جانب سے گزشتہ روز کانگریس کے مسلم ليڈران کی ایک اہم ميٹنگ کانگریس آفس میں منعقد کی گئی ، جس میں گجرات کے کئی مسلم کانگریسی سینئر ليڈران موجود رہے ۔ ميٹنگ میں ان ليڈران نے گجرات کے انچارج اشوک گہلوت اور اسکرینگ کمیٹی کے لوگوں کے سامنے گجرات کے مسلمانوں کے مسئلے کو رکھتے ہوئے 11 سیٹوں پر مسلم امیدوار کو الیکشن کے میدان میں اتارنے کا مطالبہ کیا ۔

گجرات کانگریس مائنارٹی سیل کی ميٹنگ تنازع کا شکار ، صرف ہاں میں ہاں ملانے والوں کو بلانے کا الزام

ميٹنگ کو لے کر گجرات کانگریس کے سابق ميونسپل کونسلر اور پنچ مہل ضلع کے انچارج اسحاق شیخ نے سوال اٹھاتے ہوئےکہا کہ کچھ مسلم لیڈران کو بلا کر کیسے پورے گجرات کی مسلم کمیونٹی کے مسئلے کو سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کانگریس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہم نے سالوں سے دیکھا ہے جو لوگ کانگریس کے اعلی ليڈران کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ، انہیں ہی ميٹنگ میں بلایا جاتا ہے اور جو لوگ کھل کر مسلم برادری کے لوگوں کے حقیقی مسائل کو اٹھاتے ہیں انہیں سائڈ لائن کر دیا جاتا ہے۔

اسحاق شیخ نے نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے آل انڈیا مائنارٹی سیل کے صدر خورشید سید، گجرات کے مائنارٹی سیل کے صدر گلاب خان اور احمد آباد کے مائنارٹی سیل کے صدر ذوالفقارخان یہ تمام لوگ احمد آباد میں ہی رہتے ہیں ، تو پھر ان لوگوں کو ميٹنگ میں کیوں نہیں بلایا گیا ۔ انہوں نے گجرات کانگریس کے صدر بھرت سنگھ سولنکی اور انچارج اشوک گہلوت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر گجرات کے لوگوں کے اصل مسئلے کو سمجھنا ہے ، تو ایسے لیڈران کو میٹنگ میں بلایا جائے جو لوگوں کے بیچ میں رہتے ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز