گجرات انتخابات : وزیر اعظم مودی کے آبائی شہر میں بھی بی جے پی نظر آرہی ہے بے چین ، راہیں مشکل

Dec 10, 2017 07:22 PM IST | Updated on: Dec 10, 2017 07:22 PM IST

مہسانہ : گجرات میں ایسا عام طور پر دیکھنے کو نہیں ملتا ہے کہ گزشتہ 22 سالوں سے اقتدار پر قابض بی جے پی کے کارکنان آپ کو یہ کہتے ہوئے مل جائیں کہ اس مرتبہ پارٹی کیلئے الیکشن میں راہ آسان نہیں ہے ۔ اگر ایسا کوئی بی جے پی کارکن آپ کو مل جائے اور وہ بھی وزیر اعظم کے آبائی شہر وڈنگر میں تو یہ ریاست میں بی جے پی کیلئے اس مرتبہ راہیں کتنی مشکل ہیں ، اس بات کا اندازہ لگانے کیلئے کافی ہے ۔

ایک طرف جہاں بی جے پی ریاست میں لگاتار پانچویں مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ، دعووں اور بیان بازیوں کا دور جاری ہے ، تو وہیں بی جے پی کے پرانے کارکن دیکشت پٹیل اس بات سے کافی فکر مند نظر آتے ہیں کہ 2015 میں ریزرویشن کو لے کر مظاہرہ کے دوران تشدد سے ناراض پاٹیدار سماج کا غصہ الیکشن کے دن پھوٹ سکتا ہے اور یہ پارٹی کیلئے کافی مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔

گجرات انتخابات : وزیر اعظم مودی کے آبائی شہر میں بھی بی جے پی نظر آرہی ہے بے چین ، راہیں مشکل

ریاست میں دوسرے مرحلہ کیلئے 14 دسمبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ مگر الیکشن سے قبل ایسا کہنا صرف ان کا ہی نہیں ہے بلکہ مہسانہ ضلع میں بی جے پی کے خیمہ میں بھی کافی کشیدگی کا ماحول ہے ، جو اس بات کی تصدیق کررہا ہے کہ وہاں بی جے پی کے اس کارکن کی فکرمندی بے جا نہیں ہے ۔ اس ضلع میں سات اسمبلی سیٹیں آتی ہیں۔ مہسانہ اور وڈنگر دونوں مہسانہ ضلع میں ہی آتے ہیں ۔ وڈنگر جہاں اونجھا اسمبلی حلقہ کا حصہ ہے وہیں مہسانہ شہر ایک الگ اسمبلی حلقہ ہے ۔ بی جے پی کارکنان اس بات کو لے کر کافی فکر مند ہیں کہ پاٹیداروں کی ناراضگی سے انہیں کافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے بی جے پی کارکنان کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ مہسانہ میں دو سال پہلے شروع ہوا جو ہاردک پٹیل کی قیادت والے پاٹیدار انامت آندولن سمیتی کے آندولن کا مرکز تھا ۔ ریزرویشن کیلئے کئے گئے احتجاج نے تشدد کی شکل اختیار کرلی اور کئی لوگ مارے گئے ، پاٹیدار لیڈروں کو جیل بھیج دیا گیا اور سرکار نے برادری کیلئے ریزرویشن کے مطالبہ پر کان بند کرلئے ۔ اوپر سے بھلے ہی سب کچھ نارمل لگ رہا ہے ، مگر اندر آگ بھی سلگ رہی ہے۔

دیکشت نے مزید بتایا کہ فرد واحد ہاردک سے زیادہ پاٹیدار آندولن کا مدعا ہے جو پٹیلوں کو جوڑ رہا ہے ، خاص طور پر نوجوانوں کو ۔ گجرات میں پٹیل بی جے پی کی بنیاد ہے ، آج پارٹی جو بھی ہے وہ ہم نے ہی بنائی ہے ، اس لئے یہ فطری بات ہے کہ اگر پٹیلوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا تو اس کا اثر گہرا ہوگا ۔

پاٹیداروں کے اکثریتی والے علاقوں میں زیادہ تر بی جے پی کے عہدیداران اسی برادری سے آتے ہیں ۔ خواہ وہ وڈ نگر میں دیکشت ہوں یا پھر مہسانہ شہر میں پھالگن پٹیل ، دونوں کی فکرمندی واضح ہے۔ مہسانہ نگر پالیکا میں بی جے پی کے پارشد پھالگن پٹیل نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس مرتبہ مقابلہ سخت ہے کیونکہ پٹیل برادری ناراض ہے ۔ انہوں نے پٹیل برادری کے بارے میں کہا کہ انہیں خریدا نہیں جاسکتا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز