گجرات میں کانگریس کو بڑا جھٹکا، 3 اراکین اسمبلی بی جے پی میں شامل،احمد پٹیل کا راجیہ سبھا پہنچنا اب مشکل

تینوں لیڈروں نے آج یہاں اسمبلی اسپیکر رمن لال وورا کو اپنا استعفی سونپنے کے بعد کہا کہ وہ پارٹی کے اندرونی خلفشار سے غمزدہ ہوکر یہ قدم اٹھا رہے ہیں۔

Jul 27, 2017 06:53 PM IST | Updated on: Jul 27, 2017 09:39 PM IST

گاندھی نگر: گجرات میں راجیہ سبھا کی تین نشستوں کے لئے انتخابات سے پہلے ایک اہم سیاسی تبدیلی میں کانگریس کے چیف وہپ بلونت سنگھ راجپوت سمیت تین ممبران اسمبلی نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دے دیا اور کچھ ہی دیر بعد بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہو گئے۔ ریاست میں پارٹی کے قدآور لیڈر شنکر سنگھ واگھیلا کے حال ہی میں پارٹی چھوڑنے کے بعد مسٹر راجپوت، ويرمگام کی خاتون رکن اسمبلی تیج شری بین پٹیل اور ويجاپور کے ممبر اسمبلی پرہلاد پٹیل کا استعفی کانگریس کے لئے بڑا دھچکا ہے۔ یہ تینوں رہنما آج استعفی کا اعلان کرنے کے بعد شام کو بی جے پی کے ریاستی صدر دفتر شري كملم پہنچے جہاں پارٹی کے ریاستی صدر جیتو واگھاني نے کیسریا شال کندھے پر رکھ کر انہیں بی جے پی میں شامل کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔

مسٹر واگھواني نے اس موقع پر کہا کہ کانگریس کی روایت اور پالیسی ایسی ہے کہ کوئی بھی اچھی شخصیت اس میں نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ تینوں سینئر اور تجربہ کار لیڈروں کا وہ خیر مقدم کرتے ہیں۔ تینوں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جاری ترقی کے سفر میں شراکت دار بنیں گے۔ تینوں نے اس سے پہلے استعفی دینے کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں پارٹی کےاندرونی خلفشار اور رویہ پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔

گجرات میں کانگریس کو بڑا جھٹکا، 3 اراکین اسمبلی بی جے پی میں شامل،احمد پٹیل کا راجیہ سبھا پہنچنا اب مشکل

سمجھا جا رہا ہے کہ مسٹر راجپوت آٹھ اگست کو گجرات کی تین راجیہ سبھا سیٹوں پر ہونے والے انتخابات میں بی جے پی کے تیسرے امیدوار بن سکتے ہیں تاکہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل کو، جنہوں نے کل ہی پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا، کو مسلسل پانچویں بار جیتنے سے روکنے کی کوشش کی جا سکے۔

مسٹر پٹیل پہلے ہی ان میں سے ایک سیٹ پر راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ دو دیگر نشستیں مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی اور دلیپ پنڈيا کے پاس ہیں۔ اس بار بی جے پی نے صدر امت شاہ اور مسٹر ایرانی کو امیدوار بنایا ہے۔ نامزدگی کی آخری تاریخ کل ہے۔ 182 ارکان والی اسمبلی میں بی جے پی کے پاس ایک باغی سمیت 122 رکن اسمبلی ہیں، کانگریس کے پاس 55 (دو کے استعفی کے بعد) اور این سی پی کے پاس دو اور جے ڈی یو کے پاس ایک رکن اسمبلی ہیں۔ مسٹر پٹیل کو فتحیاب ہونے کے لئے کم از کم 47 ممبران اسمبلی کی حمایت کی ضرورت ہو گی۔ اگرچہ صدارتی انتخابات میں 11 کانگریس ممبران اسمبلی کی کراس ووٹنگ کی وجہ سے انتخابی منظرنامہ کافی دلچسپ ہو جائے گا۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز