گجرات اسمبلی انتخابات : کانگریس میں بھی عدم اطمینان کی چنگاری ، بجھانےکیلئے فائر فائٹنگ ٹیم میدان میں

Nov 23, 2017 05:36 PM IST | Updated on: Nov 23, 2017 05:36 PM IST

احمد آباد: گجرات میں اسمبلی انتخابات کے لئے ٹکٹ کی تقسیم کے بعد پارٹی کارکنوں کے درمیان بھڑکی عدم اطمینان کی چنگاری کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کانگریس اعلی کمان اہم رہنماؤں کی ‘فائر فائٹنگ‘ٹیم یہاں بھیج سکتی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے عہدیداروں کی ایک ٹیم جلد ہی ریاست کا دورہ کرے گا۔ اس سلسلہ میں پارٹی کارکنوں کے ساتھ ہی ان دعویداروں سے بات چیت کی جائے گی ، جو اس بار ٹکٹ سے محروم ہو گئے ہیں۔

ایک سینئر پارٹی لیڈر نے کہا-’’ہمارے تمام کارکن اہم ہیں اور یہ بھی ایک ایشوہے‘‘۔ کانگریس میں ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات تب ہی شروع ہو گئے تھے، جب کانگریس نے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی۔ سورت علاقہ میں اس کے بعد ہی پارٹی میں بغاوت پھیل گئی اور اپنی گرفت رکھنے والے تین مقامی لیڈروں نے پارٹی چھوڑ دی۔ کانگریس کے دو کونسلروں دھن سكھ راجپوت اور جیوتی سوجترا نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا اور سینکڑوں کی تعداد میں پارٹی کارکنوں نے انتخابی مہم کے کام سے خود کو الگ کر لیا۔ پارٹی قیادت سے ناخوش پردیش کانگریس سیکرٹری فیروز ملک کا کہنا ہے کہ انتخابات میں مناسب تعداد میں مسلم امیدوار کھڑے کرنے سے متعلق یقین دہانی کو بھی پورا کرنے میں پارٹی ناکام رہی ہے۔

گجرات اسمبلی انتخابات : کانگریس میں بھی عدم اطمینان کی چنگاری ، بجھانےکیلئے فائر فائٹنگ ٹیم میدان میں

گڈز ایند سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) کو لے کر سورت علاقے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے خلاف تاجروں کے غصہ کا کانگریس کو اچھا جواب ملنے کی امید تھی، لیکن ٹکٹ تقسیم کے بعد پھیلی عدم اطمینان کی چنگاری ان امیدوں پر پانی پھیر سکتی ہے۔ مسٹر راجپوت نے الزام لگایا کہ یہاں نواسرت شمالی ہند علاقے کے لوگوں اور مہاجر مزدوروں کو جوڑے رکھنے میں بھی کانگریس ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "کانگریس نے شمالی ہند کے لوگوں میں سے کسی کو بھی ٹکٹ نہیں دیا، جبکہ ریاست میں ہمارے 15 لاکھ سے بھی مہاجر مزدوروں کی طاقت ہے‘‘۔

موجودہ منظر نامے میں اس بار کانگریس نے پاٹيدار برادری کے ایک بڑے طبقے کے ووٹوں پر نظریں لگا رکھی ہے، لیکن ’پاٹيدار انامت آندولن سمیتی (پاس) کے ساتھ اس کے معاہدے کو لے کر کشمکش بھی برقرار ہے۔ اس برادری میں کچھ غیر مستحکم ذہنیت والے ووٹر بھی ہیں جو پولنگ سے خود کو دور رکھ سکتے ہیں یا کانگریس کے خلاف ووٹ بھی کر سکتے ہیں۔

اے آئی سی سی کے ایک عہدیدار کے مطابق ’’یہ تو ہر سروے میں ہوتا ہے، لیکن اس بار ماحول اور امکانات اچھے ہیں۔ پاٹيدار برادری کے زیادہ تر لوگ کانگریس کو ہی ووٹ دیں گے، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اگر بی جے پی آرام سے جیت گئی تو کیا ہوگا اور کہیں وہ ان (بی جے پی) کے نشانے پر تو نہ رہیں گے‘‘۔ ہاردک پٹیل کی قیادت والے ’پاس ‘نے کانگریس کو حمایت کے بدلے میں کم از کم 20 سیٹوںکی مانگ کی تھی، تاہم بعد میں انہوں نے ٹکٹ مانگنے سے خود ہی انکار کر دیا۔ مسٹر پٹیل نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ وہ اور کانگریس ٹکٹوں کے لئے ایک کوٹہ فارمولہ کو اپنائے جانے کے قائل ہیں،لیکن اس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان رضامندی کے بعد ’پاس ‘اور کانگریس میں زمینی کارکنوں کے درمیان باہمی تعلقات بھی بگڑے ہیں۔ کانگریس کی طرف سے ریزرویشن کوٹہ کو لے کر مسٹر پٹیل سے کی گئی یقین دہانی پر گو مگو کے حالات ہیں۔

کانگریس کی ہی میٹنگ میں الپیش ٹھاکر کی مخالفت

ادھر کانگریس میں کچھ ہی وقت پہلے شامل ہوئے ٹھاکر سینا کے چیئرمین الپیش ٹھاکر کو آج شمالی گجرات کے پاٹن ضلع میں پارٹی کی ایک مقامی میٹنگ میں مبینہ طورپر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی وجہ سے وہ بیچ میں ہی میٹنگ چھوڑ کر چلے گئے۔اسمبلی انتخابات کے ہنگامے کے درمیان دیگر پسماندہ ذات کے لیڈر الپیش سدھپور میں کانگریس کی ایک میٹنگ میں حصہ لے رہے تھے۔اس دوران مبینہ طورپر ان کی اس سیٹ پر کانگریس کے ٹکٹ پر دعوے دار ی سے ناراض مقامی لیڈران اور کارکنان نے ان کی سخت مخالفت کی۔پہلے تو الپیش نے حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن جب ان کے خلاف نعرے بازی ہونے لگی تو وہ اچانک میٹنگ سے ہی نکل کر چلے گئے۔

بتایا جا تا ہے کہ الپیش دیگر پسماندہ ذاتوں کی اکثریت والے شمالی گجرات کی کسی سیٹ سے کانگریس کا ٹکٹ لینا چاہتے ہیں۔سدھ پور سیٹ پر پچھلی بار کانگریس کے بلونت سنگھ راج پوت جیتے تھے جو اس سال جولائی میں بی جےپی میں شامل ہوگئے تھے ۔الپیش کی نظر اسی سیٹ پر بتائی جارہی ہے۔آج وہ پاٹن ضلع کے تین تالوکا کے دورے کے سلسلے میں سدھ پور پہنچے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز