گجرات اسمبلی انتخابات 2017: کانگریس کے مسلم امیدوار 2012 سے کم

Nov 28, 2017 02:52 PM IST | Updated on: Nov 28, 2017 02:54 PM IST

احمدآباد/راجکوٹ۔ 2012 کے مقابلے میں کانگریس نے اس مرتبہ گجرات کے دو مرحلوں کے اہم اسمبلی الیکشن میں مسلم امیدوار کم اور دیگر پسماندہ طبقات کے امیدوار زیادہ کھڑے کئے ہیں۔ کانگریس نے پارٹی کی طرف سے جن امیدواروں کو کھڑا کیا ہے ان کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی قیادت والی پارٹی نے اس سال چھ مسلم امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ 2012 میں یہ تعداد سات تھی۔

جام نگر کے کانگریسی امیدوار اشوک لال نے یو این آئی کو بتایا کہ کانگریس ٹکٹوں کی تقسیم میں رنگ اور نسل، ذات و مذہب کو اہمیت نہیں دیتی بلکہ امیدوار کے جیتنے کی اہلیت کو پیش نظر رکھتی ہے۔ کانگریس نے ہمیشہ قومی یکجہتی کے جذبے سے کام لیا ہے ۔ انہوں نے اس بات سے بھی انکار کردیا کہ کانگریس نے بھی ہلکے پھلکے انداز میں ہندوتو کا راستہ اختیار کرلیا ہے ۔ کانگریس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ویسے بھی ریاست میں اوسطاً مسلم امیدواروں کی کارکردگی بہت اچھی نہیں رہتی اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ 1990 کی دہائی میں کانگریس نے جو مسلم امیدوار کھڑے کئے تھے انہیں صرف دو اعشاریہ چھ فیصد ووٹ ملے تھے۔ یہ بات مقامی پارٹی لیڈر سلیم بھائی بیکری والے نے راجکوٹ میں بتائی۔

گجرات اسمبلی انتخابات 2017: کانگریس کے مسلم امیدوار 2012 سے کم

کانگریس نے 2012 میں سات مسلم امیدوار کھڑے کئے تھے جنہیں صرف دو اعشاریہ 37 فیصد ووٹ ملے حالانکہ گجرات میں مسلمانوں کی آبادی نو اعشاریہ سات فیصد کے آس پاس ہے۔ مابعد گودھرا ہلاکت خیز فساد کے فورا بعد ہونے والے الیکشن میں کانگریس کے مسلم امیدواروں کو انتہائی کم ایک اعشاریہ چالیس فیصد ووٹ ملے تھے۔ 2007 میں یہ شرح تھوڑی بڑھی تو ایک اعشاریہ نو فیصد تک پہنچی۔ انتحابی ماحول کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایک سے زیادہ حلقوں کے مسلمان اس بات پر حیران ہیں کہ کانگریس کو ہلکے پھلکے انداز میں ہی سہی ہندوتو کا سہارا لینے کی ضرورت کیوں اور کیسے آن پڑی۔

احمدآباد نشیں تاجر مفید الابراہیم بھائی کو اس بات پر حیرت ہے کہ راہل گاندھی نہ صرف ایک سے زیادہ مندروں کی زیارت کررہے ہیں بلکہ کانگریس مابعد گودھرا فساد کا نام تک نہیں لے رہی ہے تو کیا اس نے ’’ہمارے ووٹوں کو جیب میں پہلے سے محفوظ سمجھ رکھا ہے‘‘ ۔ مسلمانوں کے مقابلے میں اس سال کانگریس نے دیگر پسماندہ طبقات کے51 امیدوارکھڑے کئے ہیں۔ یہ تعداد 2012 میں 42 تھی۔ اسے پارٹی کے انتخابی منصوبے کا حصہ سمجھا جارہا ہے۔ کانگریس نے دلت لیڈر جگنیش میوانی کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کی ہے اور ودگام کی ریزرو سیٹ پر کوئی امیدوار کھڑا نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میوانی وہاں سے آزاد امیدوار ہیں۔

کانگریس نے پٹیل برادری کے صرف 45 امیدوار کھڑے کئے ہیں جبکہ بی جے پی نے اس سیاسی طور پر حساس برادری کے 49 امیدوار نامزد کئے ہیں۔ راجکوٹ میں لاء کالج کے ایک ٹیچر نے بتایا کہ امیدواروں کے انتخاب کا جو طریقہ دونوں پارٹیوں نے اپنایا ہے اس میں پٹیل برادری سے زیادہ معقولیت کو ترجیح دی گئی ہے۔ بی جے پی کے دیگر پسماندہ طبقات کے امیدواروں کی تعداد بھی 49 ہے اور 2012 کی طرح اس بار بھی بی جے پی نے کوئی مسلم امیدوار نامزد نہیں کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز