گجرات راجیہ سبھا انتخابات میں کراس ووٹنگ، ایک ایک ووٹ کے لئے کھینچ تان

Aug 08, 2017 01:11 PM IST | Updated on: Aug 08, 2017 01:11 PM IST

گاندھی نگر۔  وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں زبردست سیاسی گہما گہمی کے درمیان حکمراں بی جے پی اور اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس کے لئے وقار کا بڑا سوال بننے والی راجیہ سبھا کی تین نشستوں کے لئے آج ووٹنگ کے دوران بی جے پی کے چیف وہپ پنکج دیسائی نے پہلا ووٹ ڈالا تاہم اس دوران خدشہ کے مطابق آغاز میں ہی کانگریس کے کچھ ممبران اسمبلی نے مبینہ طور پر کراس ووٹ  بھی کیا ہے۔ اس دوران کانگریس کے کم از کم تین ممبران اسمبلی نے پارٹی وہپ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بی جے پی امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالے۔ تینوں باغی واگھیلاگروپ کے بتائے گئے ہیں۔ ادھر ایک ایک ووٹ کی اہمیت والے اس انتخاب میں مسلسل آنے والے دلچسپ موڑ کے تحت اب این سی پی کے دو میں سے ممبر اسمبلی اور اس کے ریاستی صدر جینت پٹیل نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے کانگریس کے احمد پٹیل کو ووٹ دیا ہے۔ این سی پی نے شروع میں مسٹر پٹیل کو ہی حمایت کی بات کہی تھی پر کل رات دوسرے رکن اسمبلی كاندھل جڈیجہ نے کہا تھا کہ انہیں بی جے پی امیدوار کو ووٹ دینے کی ہدایت اعلی کمان سے ملی ہے۔

ادھر، آغاز میں ہی ووٹنگ کرنے والے شكرسنگھ واگھیلا نے صاف کہا کہ انہوں نے کانگریس کو ووٹ نہیں دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے عزیز کانگریس امیدوار احمد پٹیل کو ووٹ نہیں دیا ہے کیونکہ وہ ہار رہے ہیں اور انہیں ووٹ دینے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ بی جے پی تینوں سیٹیں جیت جائے گی۔ ان کے حامی کانگریس ایم ایل اے راگھوجي پٹیل نے بی جے پی کے تیسرے امیدوار کو ووٹ دینے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو جائیں گے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق صدر ارجن موڈھواڈيا نے الزام لگایا کہ مسٹر پٹیل اور بھولا گوہل نے اپنے بیلٹ بی جے پی کے انتخابی ایجنٹ اور امیدواروں کو دکھائے ہیں۔ وزیر اعلی وجے روپاني نے ووٹنگ کے بعد کہا کہ تینوں بی جے پی امیدوار جیت جائیں گے ۔ ادھر بی جے پی ترجمان بھرت پنڈيا نے کہا کہ آج کے نتائج کے بعد ملک بھر میں کانگریس میں تقسیم کا عمل شروع ہو جائے گا۔

گجرات راجیہ سبھا انتخابات میں کراس ووٹنگ، ایک ایک ووٹ کے لئے کھینچ تان

سینئر کانگریس لیڈر احمد پٹیل: فائل فوٹو۔

موجودہ اسمبلی میں مرمت کے کام کی وجہ سے ووٹنگ بوتھ یہاں حکومت کے اہم انتظامی احاطے ’سورنی سنکول‘ دوم میں بنایا گیا ہے۔ اسمبلی کے سکریٹری اور ریٹرننگ آفیسر ڈی ایم پٹیل نے يواین آئی کو بتایا کہ پولنگ شام چار بجے تک ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی پانچ بجے سے ہوگی۔ اس کے لئے حفاظت کے سخت انتظام کئے گئے ہیں۔ کانگریس کے چھ اراکین اسمبلی کے استعفے کے بعد 182 رکنی اسمبلی میں اب کل 176 ممبران اسمبلی اور اتنے ہی ووٹر ہیں۔ یہ انتخابات اوپن بیلٹ اور ترجیحی نظام سے ہو رہا ہے۔ نتائج شام ساڑھے سات تک آ جانے کی توقع ہے۔ یہ انتخاب بی جے پی کی محترمہ اسمرتی ایرانی (مرکزی وزیر) اور دلیپ پنڈيا اور کانگریس کے احمد پٹیل (شریمتی سونیا گاندھی کے سیاسی سکریٹری) کی مدت تکمیل کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ انتخاب میں بی جے پی کی جانب سے اس کے صدر امت شاہ اور محترمہ ایرانی اور کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں آئے بلونت سنگھ راجپوت تین امیدوار ہیں جبکہ کانگریس کے واحد امیدوار کے طور پر محترمہ سونیا گاندھی کے سیاسی سکریٹری احمد پٹیل میدان میں ہیں۔ جو جیتنے پر پانچویں بار پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے رکن بن سکتے ہیں۔ چاروں امیدوار صبح ہی پولنگ کے مقام پر پہنچ گئے تھے۔ ریاست میں 1996 کے بعد پہلی بار راجیہ سبھا انتخاب ہو رہا ہے۔ 27 اور 28 جولائی کو کانگریس کے 57 میں سے 6 ممبران اسمبلی کے استعفی کے بعد ان میں سے تین بی جے پی میں شامل ہو گئے تھے جن میں سے ایک مسٹر راجپوت بھی ہیں۔ اس کے بعد ہی کانگریس نے حکمراں بی جے پی پر ہر طرح کے دباؤ کے ذریعے اس کے ممبران اسمبلی کی خریدو فروخت کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے 44 ممبران اسمبلی کو بنگلور بھیج دیا تھا۔ حالانکہ یہ ممبر اسمبلی کل صبح لوٹ آئے اور انہیں مشرقی گجرات کے ایک ریزورٹ میں رکھا گیا تھا۔ ان میں سے 42 ایک ساتھ ووٹ دینے کے لئے بس سے پہنچے۔ دو دیگر شكتی سنگھ گوہل اور شیلیش پرمار پہلے ہی کانگریس کے انتخابی ایجنٹ کے طور پر ووٹ بوتھ پر موجود تھے۔ 182 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کے ایک باغی سمیت 122، کانگریس کے 51 (باغی شنكرسنگھ واگھیلا، جو بی جے پی امیدوار مسٹر راجپوت کے قریبی رشتہ دار ہیں اور ان کے چھ حامیوں سمیت) اور این سی پی کے دو اور جے ڈی یو کے ایک رکن اسمبلی ہے۔ مسٹر شاہ اور محترمہ ایرانی کی جیت تقریبا پکی ہے۔ مسٹر راجپوت اور مسٹر پٹیل کے درمیان مقابلہ ہے۔

مسٹر پٹیل نے جیت کے لئے ضروری 45 کا عدد ہونے کا دعوی کیا ہے۔ این سی پی کے دو اسمبلی کے ووٹ کے سلسلے میں خاصی کھینچاتانی ہے۔ ان میں سے ایک نے کانگریس کو ووٹ دینے کا دعوی کیا۔ گجرات پریورتن پارٹی کی ٹکٹ پر منتخب کئے گئے بی جے پی ( جماعت کے ادغام کی وجہ سے) کے ایک باغی نلن كوٹڈيا، جنہوں نے صدارتی انتخابات میں کانگریس کی محترمہ میرا کمار کو ووٹ دیا تھا، کے مسٹر پٹیل کی حمایت کرنے کا امکان تھا مگر ان کے گزشتہ رات بی جے پی کی ضیافت میں شامل ہونے سے ایسا نہیں مانا جا رہا۔ انتخابات میں نوٹا کا اختیار ہونے سے بھی منظر دلچسپ ہو گیا ہے۔ کانگریس نے پہلے ہی صرف مسٹر پٹیل کو ووٹ دینے اور نوٹا یا دوسری، تیسری ترجیحات کا استعمال نہ کرنے کے بارے میں وہپ جاری کر رکھا ہے جبکہ بی جے پی نے بھی کل اپنے ممبران اسمبلی کی میٹنگ کے بعد انہیں پولنگ کے دوران موجود رہنے اور پارٹی کے امیدواروں کے حق میں ووٹ کے لئے وہپ جاری کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز