گلبرگ فسادات کیس: مودی کو کلین چٹ دینے کو چیلنج کرنے والی عرضی ہائی کورٹ سے خارج

احمد آباد۔ گجرات کے گلبرگ سوسائٹی فسادات کیس میں وزیر اعظم نریندر مودی کو کلین چٹ کو چیلنج دینے والی پٹیشن ہائی کورٹ میں مسترد ہو گئی ہے۔

Oct 05, 2017 12:44 PM IST | Updated on: Oct 05, 2017 06:02 PM IST

احمدآباد۔  گجرات ہائی کورٹ نے گودھرا ٹرین سانحہ کے بعد 2002میں گجرات میں ریاست گیر فسادات معاملے میں اس وقت کے وزیر اعلی (اب وزیراعظم) نریندر مودی کو خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی ) کی طرف سے دی گئی کلین چٹ کو چیلنج کرنے والی سابق کانگریسی ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کی عرضی کو آج خارج کردیا۔

ہائی کورٹ کی یک رکنی جسٹس (محترمہ) سونیا گوکانی کی بنچ نے سپریم کورٹ کی نگرانی میں فسادات کے نو بڑے معاملات کی جانچ کے لئے قائم ایس آئی ٹی کی طرف سے فروری 2012 میں دی گئی کلوزر رپورٹ کو دسمبر 2013 میں اسے یہاں ایک نچلی عدالت میں تسلیم کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا ۔ کلوزر رپورٹ میں فسادات کو کسی بڑی سازش کا نتیجہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے مسٹر مودی سمیت کئی دیگر کو کلین چٹ دی گئی تھی ۔

گلبرگ فسادات کیس: مودی کو کلین چٹ دینے کو چیلنج کرنے والی عرضی ہائی کورٹ سے خارج

ذکیہ جعفری: فائل فوٹو، رائٹرز

گجرات فسادات کے دوران 69لوگوں کی موت سے متعلق 28فروری 2002 کے احمد آبا د گلبرگ سوسائٹی قتل عام میں مارے گئے سابق ممبر پارلیمنٹ مرحوم جعفری کی بیوہ کے ساتھ سماجی کارکن تیستا سیتلواد کی تنظیم سٹیزن فار جسٹس اینڈ پیس نے بھی فسادات میں مسٹر مودی اور پچاس سے زائد دیگر لوگوں کے ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے ہائی کورٹ میں اس کلوزر رپورٹ کو چیلنج کیا تھا ۔ عدالت نے تاہم عرضی گذاروں کو بڑی عدالت میں اپیل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ایس آئی ٹی کے وکیل نے سماعت کے دوران بار بار کہا کہ ایس آئی ٹی جانچ چونکہ سپریم کورٹ کی دیکھ ریکھ میں ہوئی تھی اور اسے تقریباً تمام لوگوں نے تسلیم کیا تھا اس لئے اس کی رپورٹ کو چیلنج کرنا درست نہیں ہے۔

گجرات فسادات کے نصف درجن سے زیادہ بڑے معاملات کی جانچ کے لئے قائم ایس آئی ٹی نے 2012 میں اپنی کلوزر رپورٹ میں مسٹر مودی کو کلین چٹ دے دی تھی۔ اسے دسمبر 2013 میں یہاں کی ایک نچلی میٹروپولیٹن عدالت نے بھی قائم رکھا تھا۔ اس کو چیلنج کرتے ہوئے مسٹر مودی اور کئی دیگر لیڈروں، بیوروکریٹوں سمیت پچاس سے زائد افراد کو وسیع تر سازش کا ملزم بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے محترمہ جعفری نے 18مارچ 2014 کوہائی کورٹ میں خصوصی عرضی دائر کی تھی ۔ اس پر سماعت اگست 2015سے شروع ہوئی تھی۔ ان کا الزام تھا کہ نچلی عدالت نے تمام پہلووں پر غور کئے بغیر ہی کلوزر رپورٹ کو منظور کرلیا تھا۔ سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ کے این جی او نے بھی ایسی ہی ایک عرضی دائر کی تھی۔ ہائی کورٹ میں دونوں پر ایک ساتھ سماعت ہورہی تھی۔ خیال رہے کہ 27فروری 2002 کو گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس کے ایک ڈبے میں آگ لگنے سے 59افراد ہلاک ہوگئے تھے اس کے بعد ریاست بھر میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔

Loading...

کیا ہے گلبرگ سوسائٹی کیس ؟

ستائیس فروری 2002 میں گودھرا سانحہ کے بعد مشتعل لوگوں نے گلبرگ سوسائٹی میں تشدد برپا کیا تھا، جس میں کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری سمیت 69 لوگوں کی جان چلی گئی تھی۔ احمد آباد شہر میں ہوئے فسادات کے بعد فسادیوں نے گلبرگ سوسائٹی پر حملہ بول دیا تھا، جہاں کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری اپنے خاندان کے ساتھ رہا کرتے تھے۔

یہاں فساد اور آتش زنی کے بعد 39 لوگوں کی تو لاشیں ملی بھیں، لیکن باقی 30 کی لاشیں تک نہیں ملیں۔ انہیں سات سال بعد قانونی تعریف کے تحت مردہ مان لیا گیا۔

Loading...