حاجی علی درگاہ ٹرسٹ نے کی سپریم کورٹ سے کنارا مسجد ہٹانے کے احکامات میں ترمیم کی فریاد

Jul 14, 2017 12:01 AM IST | Updated on: Jul 14, 2017 12:01 AM IST

نئی دہلی: ممبئی کی حاجی علی درگاہ کے ارد گرد تجاوزات ہٹانے کے معاملہ میں حاجی علی درگاہ ٹرسٹ نے سپریم کورٹ سے مسجد کو ہٹانے سے متعلق حکم میں ترمیم کرنے کی فریاد کی ہے۔ این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق ٹرسٹ نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر کے کہا ہے کہ مہاراشٹر حکومت کے تجاوزات ہٹانے کے معاملہ میں کنارا مسجد شامل نہیں تھی ، کیونکہ وہ سرکاری زمین پر نہیں ہے۔ کنارا مسجد کو مستقل کرنے کا معاملہ ریاستی حکومت کی کمیٹی کے پاس زیر غور ہے ، اس لئے مسجد کو مسمار کرنے کے دائرے سے باہر رکھا جائے اور کمیٹی کو معاملہ کو چار ہفتوں کے اندر نمٹانے کی ہدایت دی جائے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے مہاراشٹر حکومت سے کہا تھا کہ کورٹ کے حکم کے مطابق علاقہ سے تجاوزات ہٹائے جائیں۔ کورٹ نے حکومت سے کہا کہ ہم نے پہلے بھی یہی کہا تھا لیکن لگتا ہے کہ آپ کورٹ کے حکم پر عمل نہیں کرنا چاہتے، آپ کو علاقہ سے تجاوزات ہٹانے ہی ہوں گے۔ علاقہ میں کسی کو بھی کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے۔

حاجی علی درگاہ ٹرسٹ نے کی سپریم کورٹ سے کنارا مسجد ہٹانے کے احکامات میں ترمیم کی فریاد

حاجی علی درگاہ: فائل فوٹو

دراصل مہاراشٹر حکومت نے سپریم کورٹ میں دلیل دی تھی کہ علاقے میں تجاوزات ہٹانے کی کارروائی کے دوران لا اینڈ آرڈر کے بگڑنے کا خدشہ ہے ، کیونکہ اسی علاقہ میں کنارا مسجد بھی ہے۔

تین جولائی کو سپریم کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کو دو ہفتوں میں درگاہ کے ارد گرد 908 مربع میٹر علاقے میں تجاوزات کو ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ کورٹ نے کہا تھا کہ اگر احکامات پر عمل نہیں ہوا تو سنگین نتائج ہوں گے۔ مہاراشٹر حکومت سے کہا تھا کہ درگاہ تزئین کاری ضروری ہے۔ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد اب سپریم کورٹ نے بھی حکم جاری کر دیا ہے ، تو آپ کو یہ کرنا ہوگا۔

ممبئی کی حاجی علی درگاہ کے علاقے میں تجاوزات کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے بی ایم سی سے کہا تھا کہ حاجی علی درگاہ کی تزئین کاری ہونی ہی چاہئے۔ بی ایم سی درگاہ ٹرسٹ کے دیے تزئین کاری کے پلان کو یا تو منظور کرے یا ترمیم کرے یا پھر خود اپنا پلان بتائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز