حاجی علی درگاہ کے پھیری والوں کے معاملے میں چار ہفتہ میں جواب داخل کرنے کا حکم

Oct 06, 2017 08:06 PM IST | Updated on: Oct 06, 2017 08:06 PM IST

ممبئی۔ حاجی علی درگاہ کے پھیری والوں کے مسئلے پر مہاراشٹر سرکار کے ذریعے کی گئی کارروائی کے خلاف یہاں کے پھیری والے اپنے وکیل کے ساتھ معاملے کو سپریم کورٹ لے گئے جہاں عدالت نے ان کی عرضی کو قبول کر لیا جبکہ سرکاری وکیل نے عدالت سے چار ہفتہ کے اندر جواب دینے کا وقت مانگا ہے اس سے حاجی علی کے پھیری والوں میں خوشی پائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہاں کے پھول فروش اظہر سید کو یہاں کے پھیری والوں نے اپنا نما ئند ہ بنا کر سپریم کورٹ بھیجا تھا جہاں ان کے وکیل ششی پال شنکر کے ساتھ سپریم کورٹ میں حاجی علی درگاہ معاملے پر شنوائی ہوئی ۔ مہاراشٹر سرکار کے ذریعے کی گئی کارروائی کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ میں انصاف کی اپیل کی تھی ۔ سپریم کورٹ میں جج اے ایم کھانولکر اور ڈی وائی چندرچوڈ نے یہاں حاجی علی درگاہ کے پھیری والوں کی عرضی کو قبول کر لیا وہیں سرکاری وکیل نشانت رماکانت کٹنیشورکر کے کہنے پر اس معاملے میں چار ہفتہ کے اندر جواب دینے کا حکام جاری کیا ۔

سپریم کورٹ کے حکم پر حاجی علی درگاہ میں ہوئے غیر قانونی تعمیرات کو پچھلے ماہ کلیکٹر اور میونسپل کارپوریشن نے پولیس سکیورٹی میں منہدم کر دیا تھا جس میں کئی دہائی پرانی دوکانیں بھی شامل تھیں جبکہ یہاں پر مختلف مذہب کے ماننے والے ہی نہیں بلکہ غیر ملکی سیاح بھی یہاں پر آتے ہیں جو یہاں پر مذہبی اشیا ٔ فروخت کرنے والوں سے خریدتے ہیں لیکن انہدامی کارروائی کی وجہ سے پھیری والوں کے سامنے روزی روٹی کا مسئلہ کھڑا ہو گیا تھا ۔

حاجی علی درگاہ کے پھیری والوں کے معاملے میں چار ہفتہ میں جواب داخل کرنے کا حکم

حاجی علی درگاہ: فائل فوٹو

عرضی گزار نے بتایا کہ حاجی علی درگاہ روڈ کے پاس خالی پڑی زمین پر دوکانوں کے ساتھ ساتھ وہاں کی تجدید کاری کرنے کی تجویز مہاراشٹر کے وزیر اعلی سے لے کر کلکٹر سمیت سبھی متعلقہ افسران کو دی، اس تجویز سے پوری سڑک کھلے رہنے کے ساتھ ساتھ دوکانیں بن جائیں گی جس سے پھیری والوں کے روزی روٹی کا مسئلہ حل ہو جاتا ۔ سپریم کورٹ کے ذریعے حکومت کو چار ہفتہ کے اندر جواب دینے کا حکم پاس کرنے سے پھیری والوں کو امید جگی ہے کہ ان کی روزی روٹی کا مسئلہ نہیں ہو گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز