حج 2018 : نئی حج پالیسی کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی ، قرعہ اندازی روکنے کا مطالبہ ، 5 جنوری کو سماعت

نئی حج پالیسی میں ترمیم اورغیرضروری شرائط کے خاتمہ کے لئے مالیگاؤں شہر کے شفیق احمد نامی حاجی نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے، جس کی سماعت پانچ جنوری سے شروع ہوگی۔

Dec 21, 2017 11:01 PM IST | Updated on: Dec 21, 2017 11:06 PM IST

مالیگاؤں : نئی حج پالیسی میں ترمیم اورغیرضروری شرائط کے خاتمہ کے لئے مالیگاؤں شہر کے شفیق احمد نامی حاجی نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے، جس کی سماعت پانچ جنوری سے شروع ہوگی۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ قرعہ اندازی کا مرحلہ فوراً روکا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ چارمرتبہ فارم بھرنے والوں کا کوٹہ بھی بحال کیا جائے۔ اسی طرح 8 سے 15 جنوری کے درمیان سینٹرل حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے ہونے والی قرعہ اندازی پرروک لگانےکا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

مہاراشٹر سے تقریباً 4 ہزار حاجی ایسے ہیں جو مسلسل چار سالوں سے حج فارم بھر رہے ہیں۔ انہیں یہ امید تھی کہ اس سال سفر حج کا موقع مل جائے، مگرحکومت کی جانب سے کسی نوٹس کے بغیرقانون میں ترمیم کی وجہ سےانہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اوران کا کہنا ہے کہ ان کا یہ حق ہے کہ انہیں کسی قرعہ اندازی کے بغیر حج پر روانہ کیا جائے ۔ اسی لئے مالیگاؤں شہر کے شفیق احمد نے کچھ اہل خیر حضرات کی مدد سے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے ۔

حج 2018 : نئی حج پالیسی کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی ، قرعہ اندازی روکنے کا مطالبہ ، 5 جنوری کو سماعت

ہندوستان کےآئین کےمطابق کسی بھی قانون میں اچانک ترمیم کرنا غلط ہے۔ سب کو برابرکاحق ملنا یہ ہندوستان کا آئین بتاتا ہے۔ پچھلے سال جن حاجیوں سے پاسپورٹ جمع کیے گئے تھے۔ انہیں سفرحج پر روانہ کرنا تھا، مگرکوٹہ کم ہونے کی وجہ سےان کے پاسپورٹ لوٹا دیے گئے اوراس سال نیا قانون بنا دیا گیا ۔ جس کی وجہ سےان حاجیوں کو مایوسی ہورہی ہے۔ انصاف مانگنے کے لئے ان حاجیوں نے اب سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز