مالیگاؤں بم دھماکہ کیس : ملزمین کی ضمانت کی جمعیت علما ہند نے سخت لفظوں میں کی مخالفت

Sep 13, 2017 10:20 PM IST | Updated on: Sep 13, 2017 10:20 PM IST

ممبئی: جمعیت علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے آج یہاں ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت نے آج مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے میں گرفتارملزمین سدھاکر چتورویدی اور سدھاکر دویدی (سوامی ) کی جانب سے داخل کردہ ضمانت عرضداشت پر متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے ملزمین کو ضمانت پر رہا کئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت کی اور کہا کہ دیگر ملزمین کو حاصل شدہ ضمانت کا فائدہ ان ملزمین کو نہیں ملنا چاہئے کیونکہ ان ملزمین کو این آئی اے نے کلین چٹ نہیں دی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق آج خصوصی این آئی اے عدالت کے جج ایس ڈی ٹیکولے کے روبرو ایڈوکیٹ شریف شیخ نے ملزم سدھاکر چتورویدی کی جانب سے داخل کردہ ضمانت عرضداشت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمین ان دھماکوں کی سازش میں اول دن سے شامل تھے نیز انہیں اس بات کا علم تھا کہ دیگر ملزمین کے عزائم کیا ہیں۔ ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں گرفتار ملزمین کے اوپر تحقیقاتی دستہ نے الگ الگ الزامات عائد کئے ہیں لہذا اگر کسی ایک کو ضمانت حاصل ہوتی ہے تو اس کا راست فائدہ دوسرے ملزم کو نہیں دیا جاسکتا۔

مالیگاؤں بم دھماکہ کیس : ملزمین کی ضمانت کی جمعیت علما ہند نے سخت لفظوں میں کی مخالفت

علامتی تصویر

ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کی توجہ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ پر پر بھی مبذول کرائی جس میں عدالت عظمی نے صاف لفظوں میں کہا کہ ملزمین کو عدالت ان کے خلاف موجود ثبوت وشواہد کی روشنی میں ضمانت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرے نہ کہ کرنل پروہت کو حاصل ضمانت کو نظیر بناکر دوسرے ملزمین کو بھی ضمانت پر رہا کیا جائے۔ فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ صادر کرنے کے لئے 19 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ عدالت میں جمعیت علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ عبدالمتین شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم ، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے و دیگر موجود تھے۔

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں ممبئی ہائی کورٹ نے اس معاملے کی کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کو ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے تھے اور پھر اس کے بعد سپریم کورٹ نے کرنل پروہت کو بھی مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کاحکم نامہ جاری کیا تھا جس کے بعد سے دیگر ملزمین بھی انہیں ضمانت پر رہا کئے جانے کے لیئے پر تولنے لگے ہیں۔ فی الحال اس مقدمہ میں ملزمین کے خلاف کن کن دفعات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا اس پر فریقین بحث کررہے ہیں نیز فریقین کی بحث مکمل ہوجانے کے بعد باقاعدہ مقدمہ کی سماعت شروع ہوجائے گی لیکن چند ملزمین ایک منصوبہ سازش کے تحت مقدمہ کی سماعت کو طول دینا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے آج تک مقدمہ کی سماعت شروع نہیں ہوسکی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز