مراٹھی فلم ’حلال‘ کی سماعت آئندہ ہفتہ تک ملتوی، فلم پر پابندی عائد کی جائے: شمشیرخان پٹھان

ممبئی۔ طلاق ثلاثہ اور حلالہ کے موضوع پر مبنی متنازعہ مراٹھی فلم حلال پر پابندی عائد کرنے کے سلسلے میں دائر کردہ مفاد عامہ کی عرضداشت پر بامبے ہائی کورٹ میں آئندہ ہفتے سماعت ہوگی۔

Oct 05, 2017 07:58 PM IST | Updated on: Oct 05, 2017 07:58 PM IST

ممبئی۔ طلاق ثلاثہ اور حلالہ کے موضوع پر مبنی متنازعہ مراٹھی فلم حلال پر پابندی عائد کرنے کے سلسلے میں دائر کردہ مفاد عامہ کی عرضداشت پر بامبے ہائی کورٹ میں آئندہ ہفتے سماعت ہوگی۔ عدالت نے سنسربورڈ اور مہاراشٹر کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کو مقدمہ میں فریق بنانے کی ہدایت دی ہے۔ واضح رہے کہ اس مراٹھی متنازعہ فلم کی نمائش کے خلاف عوامی وکاس پارٹی کی جانب سے ایڈوکیٹ اشوک وانکر اورایڈوکیٹ سرفراز پٹھان نے بامبے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی تھی اس پرکارروائی کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ میں آج سماعت ہوئی اور اس دوران عرضداشت کے وکیل رمیش پاٹل اور امین سولکر نے اپنی بات رکھی اور کورٹ کو مطمئن کیا کہ فلم میں اسلام اور قرآن کی تعلیمات کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے اور جو باتیں اسلام اور قرآن کی تعلیمات سے ثابت نہیں ہیں ،انہیں پیش کیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ فلم میں مولوی اور علما ء کو حلالہ کرنے والے بتا کر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔ ہائی کورٹ کے ججوں نے معاملہ کی سماعت کے بعد سینسر بورڈ اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو فریقین بنانے کو کہا اور اس معاملے کی شنوائی آئندہ ہفتے جمعرات تک ملتوی کردی ہے۔ بامبے ہائی کورٹ کے حکم نامہ کی کاپی نہیں مل سکی۔ اس لئے عوامی وکاس پارٹی نے فوراً ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو خط لکھ کر ہائی کورٹ میں ہوئی سماعت کے بارے میں مطلع کیا ہے اور گزارش کی ہے کہ جس طرح سے ہائی کورٹ نے اس معاملہ کو سننے کے بعد اگلے ہفتہ سماعت کرنے والی ہے ،اسی طرح ایک ہفتہ کیلئے حلال فلم کی نمائش کو بھی ملتوی کردیا جائے تا کہ مہاراشٹر میں کوئی لا ء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔ اس کے تعلق سے  حالات خراب نہ ہوں۔

مراٹھی فلم ’حلال‘ کی سماعت آئندہ ہفتہ تک ملتوی، فلم پر پابندی عائد کی جائے: شمشیرخان پٹھان

اس مراٹھی متنازعہ فلم کی نمائش کے خلاف عوامی وکاس پارٹی کی جانب سے ایڈوکیٹ اشوک وانکر اورایڈوکیٹ سرفراز پٹھان نے بامبے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی تھی اس پرکارروائی کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ میں آج سماعت ہوئی

اس تعلق سے پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھا ن نے کہا کہ مغربی مہاراشٹر سے مراٹھا کرانتی مورچہ نے فلم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے اور مغربی مہاراشٹر میں فلم کو ریلیز نہیں ہونے دینے کی بات کہی ہے۔ شمشیر خان پٹھان نے بہت ہی افسوس میں کہا کہ مراٹھا سنگھٹنا کے لوگوں نے حلال فلم کو ریلیز نہیں کرنے کے لئے اتنا بڑا فیصلہ لیا لیکن مسلمانوں کی  تنظیموں نے اب تک خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فلم مہاراشٹر میں200سنیما گھروں میں نمائش کیلئے پیش ہونے والی تھی، لیکن عوامی وکاس پارٹی کی مسلسل جدوجہد کی وجہ سے اور سنیما مالکان کو فلم نہ دکھانے کے خط دینے کی وجہ سے سنیما گھروں نے اس فلم کی نمائش پر روک لگا دی اور یہ فلم کچھ ایک سنیما گھروں میں ہی دکھائی جا سکتی ہے۔

Loading...

Loading...