جے پور لٹریری فیسٹول میں خفیہ طور پر پہنچی متنازع بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین ، یکساں سول کوڈ پر کہی یہ بات

Jan 23, 2017 03:40 PM IST | Updated on: Jan 23, 2017 03:40 PM IST

جے پور: ادبی کانفرنس جے پور لٹریري فیسٹیول میں پیر کو متنازع اور جلاوطن بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین بھی پہنچی۔ پروگرام میں اس کی شرکت کو لے کر پہلے سے کسی کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ کانفرنس میں تسلیمہ کے آنے کو پوری طرح سے خفیہ رکھا گیا تھا۔ ایسی قیاس آرائی کی جا رہی ہےکہ منتظمین کو ڈر تھا کہ تسلیمہ کی مخالفت کی جائے گی اس وجہ سے اس کے بارے میں کسی کو مطلع نہیں کیا گیا۔ تسلیمہ یہاں ایکزائیل سیشن ((ملک بدر سیشن ) میں اپنی بات رکھ رہی تھیں ، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فیسٹیول کی ویب سائٹ پر نہ تو اس سیشن کا ذکر ہے اور نہ ہی اسپيكرو ںکی لسٹ میں تسلیمہ کا نام ہے۔

پروگرام کے دوران متنازع مصنفہ تسلیم نے یکساں سول کوڈ پر بولتے ہوئے کہا کہ مسلمان نہیں چاہتے ہیں کہ وہ اس کا حصہ بنیں، لیکن خواتین کے حقوق کے لئے اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اسلامی بنیاد پرستی پر تسلیمہ نے کہا کہ 'جب بھی میں اسلام مذہب پر تنقید کرتی ہوں ، تو اسلامی بنیاد پرست مجھے مارنے کے لیے دوڑتے ہیں، یہ سب دیگر مذاہب میں نہیں ہوتا، اسلام کا روادار ہونا ضروری ہے۔ تاہم ' ساتھ ہی ساتھ تسلیمہ نے یہ بھی کہا کہ وہ ہندو بنیاد پرستی اور دیگر طرح کے بنیاد پرستی کی بھی مخالفت کرتی ہے۔

جے پور لٹریری فیسٹول میں خفیہ طور پر پہنچی متنازع بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین ، یکساں سول کوڈ پر کہی یہ بات

عدم برداشت کے معاملہ پر تسلیمہ نے کہا کہ ہندوستان میں وہ ہمیشہ خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی ہے ، لیکن یہاں حالات اتنے بھی خراب نہیں ہیں کہ ملک چھوڑنا پڑ جائے۔ بنگلہ دیش میں تو سیکولر مصنفین کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے کہا کہ وہ قوم پرستی پر یقین نہیں رکھتی ہے اور ان کے لئے پوری دنیا ایک ہی ہے۔

ملک بدری کے معاملے پر بات چیت کرتے ہوئے تسلیمہ نے کہا کہ 'اگر میرا بس چلتا تو میں بالکل بنگلہ دیش میں رہنا چاہتی، لیکن اس کے بعد ہندوستان ہی وہ ملک جہاں میں گھر جیسا محسوس کرتی ہوں۔ تسلیمہ نے یہ بھی کہا ہے کہ جب اسے حال ہی میں ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ، تب اسے اتنا ہی دکھ ہوا جتنا اسے 2008 میں ہندوستان چھوڑنے پر ہوا تھا۔

خیال رہے کہ قبل ازیں اتوار کو جلاوطن بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے نئی دہلی میں اپنے ایک نامعلوم مسکن سے پی ٹی آئی سے بات چیت کی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ سال 2011 میں ممتا بنرجی کے وزیر اعلی بننے کے بعد اسے مغربی بنگال میں اپنی واپسی کی امید تھی، لیکن اسے لگتا ہے کہ ترنمول کانگریس کی سربراہ اس معاملہ میں بائیں محاذ کی حکومت سے زیادہ 'سخت ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز