جماعت اسلامی ہند کی گول میز کانفرنس ، روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی مسلم اورعرب دنیا کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں

Sep 07, 2017 11:38 PM IST | Updated on: Sep 07, 2017 11:38 PM IST

مالیگاوں، حیدرآباد :  میانمار میں تشدد کا شکار روہنگیا مسلمان لاکھوں کی تعداد میں نقل مکانی کرکے پڑوس کے ملکوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہیں ۔ دنیا بھر میں سوکی حکومت کی تنقید کی جارہی ہے ۔ ہندوستان میں بھی مسلم شخصیات اور تنظیموں نے اس کے خلاف احتجاج کی صدا بلند کی ہے ۔ ملک بھر میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہروںکو سلسلہ جاری ہے۔

مالیگاؤں میں محمد علی شبیر ایم یل سی نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی مذمت کرتے ہوئے مرکزی بی جے پی حکومت کی شدید تنقید کی ہے اور اپنے بیان میں کہاکہ میانمار کی ریاست رکھائین میں حکومت اور فوج کے مظالم کے سبب سینکڑوں روہنگیا مسلمان مرد، خواتین، بچے ہلاک، ہزاروں بے گھر اور لاکھوں اپنے وطن سے فرار ہوتے ہوئے تھائی لینڈ، بنگلہ دیش اور ہندوستان میں بے یارومددگار پناہ گزینوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ساری عالمی برادری کی مذمت کے باوجود نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی زیرقیادت میانمار حکومت کی جانب سے بے قصور اور نہتے مسلمانوں پر ظالمانہ فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے ، جس کی ساری دنیا مذمت کررہی ہے۔

جماعت اسلامی ہند کی گول میز کانفرنس ، روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی مسلم اورعرب دنیا کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں

ادھر حیدرآباد میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف بطور احتجاج جماعت اسلامی ہند کی جانب سے گول میز اجلاس کا انعقاد کیا گیا ، جس میں ملت اسلامیہ کی نمائندہ شخصیتوں نے شرکت کی ۔ انہوں نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی مسلم اورعرب دنیا کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیںہے ۔ اگر اس ظلم و بربریت کو روکا نہیں گیا تو اسلام اور مسلم دشمن طاقتیں کسی اور ملک میں مسلمانوں کو نشانہ بنائیں گی ۔

امیر حلقہ جماعت اسلامی تلنگانہ و اڈیشہ حامد محمد خان کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں مختلف مکاتب فکر ، مسالک ، تنظیموں اور جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی ۔ مقررین نے سخت لہجہ میں میانمار میں جاری منصوبہ بند نسل کشی کو ساری انسانیت کے لیے شرمناک قرار دیا اور اس چیلنج سے مقابلہ کے لیے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اتحاد اور امت واحدہ کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ۔ کل جماعتی گول میز اجلاس میں مسلم ممالک سے مطالبہ کیا گیا کہ زبانی اور رسمی انداز میں مذمت کی بجائے عملی اقدام کے ذریعہ مسلمانوں کی نسل کشی کو روکیں ۔ اجلاس میں بعض قرار دادیں منظور کی گئیں ۔ قرار داد میں میانمار میں جاری مسلمانوں کی قتل و غارت گری کو دور جدید کا بدترین المیہ قرار دیاگیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز