شریعت اسلامیہ کے تئیں بیداری پیداکرنا وقت کی ضرورت : جماعت اسلامی ہند

Feb 26, 2017 09:40 PM IST | Updated on: Feb 26, 2017 09:40 PM IST

اورنگ آباد: جماعت اسلامی ہند کی خواتین یونٹ نے آج عام خاص میدان میں میری شناختکے عنوان سے یک روزہ سمینار کا انعقاد کیا ،جس میں شریعت اسلامی کے تئیں خواتین میں بیداری پیدا کی گئی اور ان کے تعلق سے اسلامی پیغامات کیا ہیں اسے پیش کیا گیا۔ جماعت اسلامی خواتین کی یونٹ صدر مبشرہ فردوس نے اس موقع پر اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ شریعت نے مردوعورت کے دائرہ کار کا تعین کر دیا ہے اور اسلام نے سب کے حقوق کو واضح انداز میں بیان کر دیا ہے۔انہوں نے معاشرے میں درآئی خرابیوں کو دور کرنے نیز خواتین کو اپنے حقوق جاننے اور سمجھنے نیز اس تعلق سے پھیلی بدگمانیوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر ایک قرارداد بھی پیش کیا گیا۔جس میں یہ کہا گیا کہ مرکزی حکومت مسلم پرسنل لابورڈ میں کسی طرح کی دخل اندازی نہ کرے۔تین طلاق،تعدد ازدواج،حلالہ جیسے امور میں شریعت پر عمل کرنے پرمسلمانوں کو آزاد چھوڑ دے کیوں کہ آئین نے ہی ہمیں اپنے مذہب اور عقیدے پر چلنے کی پوری آزادی دی ہے۔ قرار دارمیں یہ بھی کہاگیا ہے کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کا خواب تھا کہ پورے ملک میں شراب بندی عائد کی جائے ۔حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ شراب بندی کو پورے ملک میں نافذ کرے کیوں کہ شراب ام الخبائث ہے اور اس کی وجہ سے گھروں کا امن چین غارت ہورہا ہے۔

شریعت اسلامیہ کے تئیں بیداری پیداکرنا وقت کی ضرورت : جماعت اسلامی ہند

سیمینار کی منتظم اسماءظہرا نے سیمینار کے بعد نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہمارے مسائل حل کرنے کی بجائے ہمیں مختلف مسائل میں الجھانا چاہتی ہے۔ طلاق اور اس جیسے مسائل ہمارے داخلی مسائل ہیں اور انہیں ہم آپس میں ہی حل کرنا جانتے ہیں اور اس سلسلے میں اگر کسی طرح کی غلط فہمی پیدا ہورہی ہے تو ہم اسے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اپنی برادری میں بیداری پیداکرنے میں مصروف عمل ہیں۔ محترمہ ظہرا نے کہا کہ غربت و افلاس،ناخواندگی،بے روزگاری، عدم تحفظ کا احساس جیسے درجنوں ایسے مسائل ہیں جنہیں حکومت کو دور کرنے کی کوشش کر نی چاہئے ۔

محترمہ ظہرا نے آرٹی آئی سے حاصل اطلاعات کی بنیاد پر کہا کہ طلاق کے مسائل مسلمانوں میں انتہائی کم ہیں اور دیگر طبقات کے مقابلے میں یہ صفر کے مانند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح کے مسائل سامنے آتے ہیں تو متاثرہ کو انصاف کے حصول کے لئے کافی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری انصاف دلانے کا انتظام کرے ۔انہوں نے کہا کہ معاشرتی اصلاحات کے نام پر معاشرے میں ابتری پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز