مفتی ولی اللہ کا معاملہ ایک بار پھر ٹلا، اچانک جج کے تبادلے سے دفاعی وکلاء حیران

Jun 06, 2017 01:43 PM IST | Updated on: Jun 06, 2017 01:43 PM IST

ممبئی۔  اترپرد یش کے وارانسی میں واقع مشہور سنکٹ موچن مندر میں 2006ء میں ہوئے دہشت گردانہ واقعہ جس میں 28؍ افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے کے معاملے کی سماعت گذشتہ کل اس وقت ایک بار پھر تھم گئی جب خصوصی عدالت کے جج کا ٹرانسفر کا حکمنامہ آگیا جس کے بعد جج کو فیصلہ سنانے سے قبل ہی جانا پڑا۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔ گلزا ر اعظمی نے بتایا کہ ملزم مفتی ولی اللہ کے معاملے میں تمام سرکاری گواہوں کی گواہی مکمل ہوچکی تھی اور استغاثہ اور دفاع کی گرفحتمی بحث کا اختتام بھی ہوچکا تھا بس فیصلہ کا انتظار تھا لیکن سیشن جج کے اچانک تبادلے سے ملزم اور اس کے اہل خانہ سمیت دفاعی وکلاء کو شدید دھچکہ لگا ہے کیونکہ اب دفاعی وکلاء کو پھر سے عدالت کے سامنے ملزم کی بے گناہی کے حقائق پیش کرتے ہوئے حتمی بحث کرنا پڑے گی۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ وہ اس مقدمہ میں ہونے والی تاخیر کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کی تیاری میں ہیں اور اس تعلق سے دفاعی وکلاء کو ہدایت دی گئی ہے ۔گلزار اعظمی نے معاملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ۷؍مارچ 2006سنکٹ موچن مندر میں شام چھ بجے بم دھماکہ ہوا تھا جبکہ دوسرا دھماکہ وارانسی ریلوے اسٹیشن پر ہوا تھا جبکہ ایف آئی آر کا اندراج بم دھماکوں کے دوسرے دن یعنی کے 8؍ مارچ کو پولس اسٹیشن لنکا میں سب انسپکٹر سمرجیت کی فریاد پر درج ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مفتی ولی وللہ کو 5؍ اپریل 2006ء کو لکھنؤ سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر مندر میں بم دھماکہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تعزیرات ہند کی دفعات 304,302,307,324 اور آتش گیر مادہ کے قانون کی دفعات 3,4,5 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا ۔ملزم ولی وللہ کے خلاف دو مقدما ت کا اندراج کیا گیا تھا جن کے نمبر یہ 1786/2006اور 815/2011 ہیں ۔

مفتی ولی اللہ کا معاملہ ایک بار پھر ٹلا، اچانک جج کے تبادلے سے دفاعی وکلاء حیران

سال ۲۰۱۱ء میں غازی آباد کی خصوصی عدالت نے دونوں مقدمات کو یکجا کرکے مقدمہ کی سماعت کا آغاز کیا۔ دوران مقدمہ ملزم کے خلاف گواہ دینے کے لیئے استغاثہ نے ۴۸؍ گواہوں کو عدالت میں پیش کیا لیکن سرکاری گواہوں کی گواہ مکمل ہونے اور فریقین کی بحث کے اختتام کے بعد جج کا ٹرانسفر کردیا گیا جس کی وجہ سے معاملے کی سماعت ایک بار پھر التواء کا شکار ہوگئی ۔ نئے جج نند کمار کے چارج لینے کے بعد ہی سرکاری گواہان کو دوبارہ گواہی کے لیئے طلب کیئے جانے والے معاملے پر کوئی فیصلہ ہو پائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز