چوبیس برس سے جیل میں بند اشفاق کی پیرول پر رہائی کی عرضداشت پر عدالت کا مثبت رویہ

Oct 13, 2017 04:03 PM IST | Updated on: Oct 13, 2017 04:03 PM IST

ممبئی۔ گذشتہ 24برسوں سے جیل کی صعوبتیں جھیلنے والے ایک شخص کی پیرول پر رہائی کے لئے جمعیت علماء کے توسط سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل عرضداشت پر آج حتمی سما عت عمل میں آئی جس کے دوران دو رکنی بینچ نے کہا کہ ملزم کو پیرول پر ر ہائی ملنی چاہئے اور اس تعلق سے جیل انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ نئے سرے سے تین ہفتوں کے اندرعرض گذار کی عرضداشت پر کارروائی کرے ۔ اس سے قبل عدالت عظمی نے پیرول پر سزا یافتہ ملزمین کی ر ہائی کے لئے مرکزی حکومت کورہنمایانہ اصول مرتب کرنے کا حکم دیا تھا اور اپنے تفصیلی فیصلہ میں کہا تھا کہ ان تمام قیدیوں کو پیرول پر رہائی ملنا چاہئے جن کے خلاف کوئی منفی رپورٹ نہیں ہے اور جیل میں ان کا رویہ قابل اعتراض نہیں ہے۔

ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیت علما مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ گذشتہ چوبیس برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید عمر قید کی سزا کاٹ رہے اشفاق عبدالعزیز کی پیرول پر رہائی کے لئے سپریم کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی جس کے دوران سینئر ایڈوکیٹ رتنا کر داس نے دو رکنی بینچ کے جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اشوک بھوشن کو بتایا تھا کہ گذشتہ دنوں اس معاملے میں فیصلہ صادر کرتے وقت جیل انتظامیہ کی گمراہ کن رپورٹ جس میں اس نے بجائے چوبیس برسوں سے جیل میں مقید ہونے کے بارہ سال سے عرض گذار کے جیل میں مقید ہونے کی رپورٹ دی تھی جس کی بنیاد پر عدالت نے ملزم کو چھ مہینہ کے بعد پیرول کی درخواست دینے کا حکم دیا۔ ایڈوکیٹ رتنا کر داس نے عدالت کو بتایا کہ جیل انتظامیہ کی ناقص رپورٹ کا خمیازہ عرضداشت کو بھگتنا پڑ رہا ہے لہٰذ ا عدالت کواس معاملے میں جیل انتظامیہ سے باز پرس کرنی چاہئے۔

چوبیس برس سے جیل میں بند اشفاق کی پیرول پر رہائی کی عرضداشت پر عدالت کا مثبت رویہ

گلزاراعظمی، جنرل سکریٹری، قانونی امدادی کمیٹی، جمعیت العلما مہاراشٹر: فائل فوٹو

سینئر ایڈوکیٹ رتنا کر داس کے دلائل کی سماعت کے بعد دو رکنی بینچ نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے تین سطری حکم نامہ میں کہا کہ پیرول پر رہائی کے لیئے عرض گذار کی درخواست پر انتظامیہ تین ہفتوں کے اندر فیصلہ کرے نیز عدالت عظمی کی جانب سے متعین کردہ رہنمایانہ اصولوں کی روشنی میں عرض گذا ر کی درخواست پر فیصلہ کرے۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ آج کی عدالتی کارروائی کی روشنی میں جے پور جیل انتظامیہ سے اگلے چند ایام میں رجوع کیا جائے گا تا کہ ملزم کی پیرول پر رہائی کی درخواست دی جا سکے۔ گلزار اعظمی نے کہاکہ سپریم کورٹ کے مثبت تبصرہ کے بعد انہیں امید ہے کہ اشفاق عبدالعزیز کی پیرول پر رہائی کی درخواست منظور ہو گی جس کے بعد دیگر اسیران کو بھی فائدہ پہنچے گا اور ان کی بھی پیرول پر رہائی ممکن ہو پائے گی۔

واضح رہے کہ انڈین جیل قانون 1894 کے مطابق ان قیدیوں کو سال میں 30 سے لیکر 90 دنوں تک پیرول پر رہا کیا جاسکتا ہے جو جیل میں سزائیں کاٹ رہے ہیں اور وہ بیماری جھیل رہے ہوں یا ان کی فیملی میں کوئی شدید بیمار ہو ، شادی بیاہ میں شرکت کی خاطر، زچگی کے موقع پر، حادثہ میں اگر کسی فیملی ممبر کی موت ہوجائے تو جیل میں مقید شخص کو عارضی طور پر جیل سے رہائی دی جاتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز