کرنل پروہت کی ضمانت، حکومت کی غلط پیروی کا نتیجہ: جمعیۃ علماء مہاراشٹر

ممبئی۔ مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے کے کلیدی ملزم لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت کی ضمانت پر رہائی کی سپریم کورٹ میں متاثرین کی جانب سے مخالفت کرنے والی غیر سرکاری تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے آج سپریم کورٹ کے فیصلہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کی جانب سے کرنل پروہت کو دی جانے والی ضمانت دراصل مرکزی و ریاستی حکومت کی غلط پیروی کا نتیجہ ہے۔

Aug 21, 2017 11:34 PM IST | Updated on: Aug 21, 2017 11:34 PM IST

ممبئی۔ مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے کے کلیدی ملزم لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت کی ضمانت پر رہائی کی سپریم کورٹ میں متاثرین کی جانب سے مخالفت کرنے والی غیر سرکاری تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے آج سپریم کورٹ کے فیصلہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کی جانب سے کرنل پروہت کو دی جانے والی ضمانت دراصل مرکزی و ریاستی حکومت کی غلط پیروی کا نتیجہ ہے۔ ممبئی میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اخبارات کے نام جاری کئے گئے اپنے بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے مالیگاؤں بم دھماکوں کے کلیدی ملزم کو ضمانت حاصل ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کے وکلاء نے کرنل کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش کرنے سے احتراز کیا۔ نیز اس مقدمہ کی صحیح پیروی بھی نہیں کی گئی ۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ جمعیۃ علماء نے اس معاملہ میں متاثرین کی جانب سے نمائندگی کرتے ہوئے درخواست ضمانت کی سخت لفظوں میں مخالفت کی تھی لیکن تعجب خیز امر یہ ہے کہ جب جمعیۃ علماء کے وکیل سابق ایڈیشنل سالیسٹر جنرل امریندر شرن نے عدالت میں ان باتوں کا اظہار کیا کہ کرنل پروہت ابھینو بھارت کا رکن ہے اور اس نے اسرائیل اور تھائی لینڈ کی حکومتوں کے تعاون سے ملک میں بغاوت کرنے کا پروگرام بنایا تھا ۔تب این آئی اے کے وکیل نے ایک طرح سے کرنل پروہت پر عائد الزامات کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہا کہ ابھینو بھارت تنظیم پر حکومت نے کوئی پابندی نہیں لگائی ہے۔

کرنل پروہت کی ضمانت، حکومت کی غلط پیروی کا نتیجہ: جمعیۃ علماء مہاراشٹر

مالیگاؤں دھماکہ معاملہ کے ملزم لیفٹننٹ کرنل شری کانت پرساد پروہت: فائل فوٹو۔

جمعیۃ علماء کے شعبہ قانون کے سربراہ نے مزید کہا کہ مرکز اور ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد مالیگاؤں بم دھماکہ معاملہ میں حکومت کی جانب سے پیروی کرنے والی خاتون وکیل روہنی سالین نے اقتدار میں تبدیلی کے بعد خود کو اس مقدمہ سے علیٰحدہ کرلیا تھا ،اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ این آئی اے اور حکومت کے افسران اس پر یہ دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اس مقدمہ میں گرفتار ملزمین کو فائدہ پہنچائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز