دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار مسلم خواتین کو قانونی امداد فراہم کی جائے گی: گلزار اعظمی

Apr 03, 2017 04:50 PM IST | Updated on: Apr 03, 2017 04:54 PM IST

ممبئی۔ مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتہ کی جیل میں مقید دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار دو مسلم خواتین سمیت دیگر ملزمین کو جمعیت علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی ) قانونی امداد فراہم کرے گی۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیتہ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اخبار نویسوں کو دی۔ گلزار اعظمی نے بتایا کہ استغاثہ کے مطابق 2اکتوبر2014کو مغربی بنگال کے شہر بردوان کے کھاگرا گڑھ نامی علاقے میں واقع ایک گھر میں بم سازی کرتے وقت بم دھماکہ ہوا تھا جس میں دو لوگوں کی موت ہوگئی تھی جس کے بعد پولس نے اس گھر کی دو خواتین سمیت دیگر ملزمین کو گرفتار کیا تھا ، حالانکہ خواتین کا کہنا تھا کہ بم دھماکہ نہیں ہوا تھا بلکہ گیس سلنڈر پھٹا تھا۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزمین کی جانب سے انہیں قانونی امداد فراہم کرنے کی متعدد درخواستیں دفتر جمعیت علماء اور صدر جمعیت علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کو موصول ہوئی تھیں جس کے بعد معاملے کی نوعیت کو سمجھنے اور ملزمین اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کرنے کے لیئے ایڈوکیٹ شاہد ندیم کو ممبئی سے کولکاتہ روانہ کیا گیا تھا۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے گذشتہ دنوں کولکاتہ کی علی پور جیل کا دورہ کیا اور ملزمین سے ملاقات کی جس کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ اس معاملے میں دیگر درجنوں ملزمین کے ساتھ دو خواتین کو بھی ملزم بنایا گیا ہے جن کے نام گلشن بی بی اور علیمہ بی بی ہیں اور دونوں خواتین جیل میں ایک ایک بچہ کے ساتھ مقید ہیں نیز ایک خواتین نے بچہ کو دوران جیل تحویل میں ہی جنم دیا تھا۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ اس معاملے میں بیشتر ملزمین کے خلاف فرد جرم داخل کی جاچکی ہے اور ابھی تک معاملے کی سماعت شروع نہیں ہوسکی اور نہ کسی بھی ملزم کو عدالت کی جانب سے ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔

دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار مسلم خواتین کو قانونی امداد فراہم کی جائے گی: گلزار اعظمی

گلزار اعظمی نے کہا کہ وہ مقامی وکلاسے رابطہ میں ہیں اور جلد ہی ملزمین کو قانونی امداد فراہم کی جائے گی نیز ان کی کوشش ہوگی کہ جلد از جلد ان دو خواتین کو جیل سے باہر نکالا جائے جو جیل کے اندر گذشتہ دو سال سے زائد عرصہ سے اپنے بچوں کے ہمراہ قید ہیں۔

کولکاتہ کا دورہ کرکے لوٹے ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے بتایا کہ حالانکہ تحقیقاتی دستہ این آئی اے نے ملزمین کو ملک دشمن سرگرمیوں کے تحت گرفتار کیا ہے لیکن دوسال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود ملزمین کے خلاف مکمل فرد جرم داخل نہیں کی گئی ہے۔

ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے بتایا کہ ملزمین پر الزام ہیکہ وہ بنگلہ دیشی ممنوع تنظیم جماعت المجایدین کے ممبر ہیں اور ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کی سازش کررہے تھے نیز ملزمین پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ وہ القاعدہ اور طالبان کے ہم خیال ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے کے تعلق سے انہوں نے کولکاتہ کے متعدد وکلا سے ملاقات کی تھی اور انہیں امید ہیکہ وہ مقدمہ کی اگلی سماعت پر عدالت میں ملزمین کے دفاع میں اپنی خدمات پیش کریں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز