جاپان نے ’نیو انڈیا‘ کے خواب کو پورا کرنے کا عہد کیا ہے: شنزو آبے

Sep 14, 2017 03:38 PM IST | Updated on: Sep 14, 2017 03:56 PM IST

احمد آباد۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور جاپان کے وزیر اعظم شینزو آبے نے ملک میں ریلوے کی تاریخ کے نئے باب کا آغاز کرتے ہوئے آج ممبئی ۔احمد آباد ’ہائی اسپیڈ ریلوے پروجکٹ‘ کی آج یہاں بنیاد رکھی اور امید ظاہر کی کہ’ ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک ‘ ہندوستان کی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کرے گا اور اس سے سماجی ترقی کو بھی تقویت ملے گی۔ اس موقع پر مسٹر مودی نے اپنے خطاب میں کہا، "بلٹ ٹرین، تیز رفتار، تیز ترقی، تیز ٹکنالوجی کے ذریعے تیز ترنتائج لانے والی ہو گی جس میں سہولیات بھی ہوں گی اور سیکورٹی بھی۔" انہوں نے اس موقع کو ہند۔جاپان کے تعلقات میں تاریخی اور جذباتی لمحات قراردیتے ہوئے کہا، "اچھے دوست وقت کے بندھن سے ماورا ہوتے ہیں اور جاپان ہندوستان کا ایسا ہی دوست ہے۔ ممبئی۔ احمد آباد ’ہائی اسپیڈ ٹرین ‘دونوں ممالک کے مضبوط ہوتے تعلقات کی علامت ہے۔

جاپان کے وزیر اعظم بھی مسٹر مودی کی ضیافت سے انتہائی خوش نظر آرہے تھے۔ انہوں نے عوام سے خطاب بھی کیا۔ 'ہیلو' کرکے خطاب شروع کرنے والے مسٹر آبے نے کہا کہ انہوں نے، جاپان کی حکومت اور جاپانی کمپنیوں نے مسٹر مودی کے ’نیو انڈیا‘ کے خواب کو پورا کرنے کے لیے مکمل حمایت دینے کا 'عہد'کیا ہے۔ انہوں نے ہندوستان میں بلٹ ٹرین لانے کیلئے مسٹر مودی کو کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ دو سال قبل مسٹر مودی کی وجہ سے ہی اس معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ اگلی بار جب وہ گجرات آئیں تو مسٹر مودی کے ساتھ شنکاسین میں بیٹھ کر آئیں۔

جاپان نے ’نیو انڈیا‘ کے خواب کو پورا کرنے کا عہد کیا ہے: شنزو آبے

وزیر اعظم نریندر مودی جاپان کے اپنے ہم منصب شنزو آبے کے ساتھ احمد آباد میں: تصویر اے پی۔

مسٹر مودی نے اتنے قلیل وقت میں بلٹ ٹرین پروجکٹ کے سنگ بنیاد کے لئے مسٹر آبے کو کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ذاتی دلچسپی لے کر اس میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کیا اور انتہائی سستی 0.1 فیصد کی شرح پر سود پر 50 سال کی مدت کا قرض دے کر اسے ہمارے لئے آسان تر بنایا یہ جاپان کی جانب سے ہندوستان کے لئے ایک بڑی سوغات ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلٹ ٹرین نے جاپان میں سماجی واقتصادی تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ہندوستان میں بھی اس کی وجہ سے روزگار میں اضافہ ہوگا اور ملک کی پوری معیشت تیز ہو جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ آنے والے دنوں میں، شہروں کی ترقی ہائی اسپیڈ کوریڈور میں ہوگی۔ ممبئی۔ احمد آباد کے درمیان سنگل اکانامک زون بنےگا۔ اس سے کاروبار کو فروغ ملے گا۔ ملک کونئی رفتار حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جاپان سے ملنے والی ٹیکنالوجی کو غربت کے خاتمے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلٹ ٹرین پروجیکٹ سے ’میک ان انڈیا‘کو فروغ حاصل ہوگا۔تکنیکاگرچہ جاپان سے آئے گی لیکن وسائل ہندوستان کے استعمال کئے جائیں گے۔ ہائی ا سپیڈ ریل ٹریک ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ادارے میں ہندوستان کے نوجوانوں کو ہائی اسپیڈ ریل ٹیکنالوجی کی تربیت دی جائے گی۔

مسٹرمودی نے کہا کہ اب وقت کا انتظارکرنے کا یا آہستہ آہستہ بڑھنے کا نہیں بلکہ تیزی سے بڑھنے کا وقت ہے۔ 25 سالوں میں ٹیکنالوجی میں بڑی تبدیل آئی ہے۔ ہمیں ترقی کے لئے 'ہائی اسپیڈ' کرنا ہوگا۔ انہوں نے ملک میں 106 دریاؤں میں آبی گزرگاہوں کی تعمیر کرنے، قومی ہوا بازی سے متعلق پالیسی بنانے،مال بردار کوریڈور کی تعمیر کرنے، 70 چھوٹے ایئر پورٹوں کو کھولنے کے لئے ’اڑان‘منصوبہ بندی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مربوط ٹرانسپورٹیشن پالیسی کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان تمام منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔ جاپان کے وزیر اعظم نے اس سے پہلے اپنے خطاب میں ہندوستان میں بلٹ ٹرین کے خواب کو پورا ہونے کا کریڈٹ مسٹر مودی کو دیتے ہوئے کہا کہ دو سال پہلے ہی دونوں ممالک نے اس منصوبے کی شروعات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے ہندوستان اور جاپان کے تعلقات کو 21 ویں صدی کو ایشیا کی صدی بنانے کیلئے سب سے زیادہ قدرتی تعلق بتاتے ہوئے کہا کہ مسٹر مودی عالمی اور بصیرت مند لیڈر ہیں اور انہوں نے نیو انڈیا بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور جاپان کو اپنا پارٹنر بنایا ہے۔ انہوں نے اور جاپانی حکومت وجاپانی کمپنیوں نے مسٹرمودی کے اس خواب کو مکمل حمایت دینے کا 'عہد' کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ اگلی دفعہ جب وہ گجرات آئیں، تو وہ شنکانسین یعنی بلٹ ٹرین میں سوار ہوکر آئیں۔

مسٹر آبے نے کہا کہ جاپان ہندوستان کو بلٹ ٹرین کی ٹیکنالوجی بھی دے گا اور شنكانسین کی ٹیکنالوجی پر کاواساکی اور بھارت ہیوی الكٹریكلس لمیٹڈ (بھیل) مل کر رولنگ اسٹاک بنائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جاپان صرف نہ صرف بلٹ ٹرین بلکہ انڈین ریلوے میں سیکورٹی کے لئے پورا تعاون بھی فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال جاپانی تکنیکی ماہرین نے تین مرتبہ ہندوستا کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔ لہذا سیاسی جماعتیں، حکومت، کاروباری برادری اور ملک کے عام عوام نے ایک ایسی ٹرین بنانے کا فیصلہ کیا جو دنیا میں کہیں نہیں ہے اور 1964 میں شنکانسین ای ہائی ا سپیڈ ریل لانے میں ہم نے کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد ملک کی معیشت میں تبدیلی آئی۔ ملک کے بڑے صنعتی مرکزوں کو اس بلٹ ٹرین سے منسلک کیا گیا ہے اور جاپان کی مجموعی گھریلو مصنوعات (جی ڈی پی) کی شرح دس فیصد سے زائد تک پہنچ گئی اور جاپان کو ترقی پذیر ممالک میں شامل کیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز