نفرت کے اس دور میں ’ كاروانِ محبت ‘ پہنچا احمدآباد، کیا گیا شاندار استقبال

پورے ہندوستان کے لوگوں کو محبت کا پیغام دینے کے مقصد کو لے کر كاروانِ محبت احمد آباد پہنچا جہاں لوگوں نے دل کھول کر ان کا خیر مقدم کیا۔

Sep 21, 2017 04:23 PM IST | Updated on: Sep 21, 2017 04:23 PM IST

 احمد آباد۔ پورے ہندوستان میں جس طریقے کے حالات بنے ہوئے ہیں اور خاص طور سے اقلیتی برادری کے لوگوں میں نا امیدی چھائی ہوئی ہے ۔ بھیڑ کے ذریعے لوگوں کا کھلےعام قتل کر دیا جاتا ہےاور ارد گرد میں رہنے والے لوگ کسی کی جان بھی بچانے نہیں آتے ۔ اس سب کے پیش نظر  پورے ہندوستان کے لوگوں کو محبت کا پیغام دینے کے مقصد کو لے کر كاروانِ محبت احمد آباد پہنچا جہاں لوگوں نے دل کھول کر ان کا خیر مقدم کیا۔ بتایا گیا کہ ہندوستان میں جس طریقے کے حالات بنے ہوئے ہیں اس سے نمٹنے کے لئے محبت کو اہم ضرورت مانا جا رہا ہے  اور اس سفر کے ذریعے بھی محبت کا پیغام دیا جا رہا ہے۔  لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ لوگ کوشش یہ بھی کر رہے ہیں کہ لوگوں میں جو مدد کرنے کا جذبہ ہے اسے ایک بار پھر سے زندہ کیا جائے تاکہ ایک بار پھر نفرت کی بھیڑ، دادری میں اخلاق، الور میں پہلو خان ​​کو تشدد کا شکار نہ بنا سکے۔

چار ستمبر کو آسام سے شروع ہوا كاروانِ محبت کا یہ سفر ایک لمبا سفر طے کرتے ہوئے راجستھان کے بعد اپنے آخری مرحلے میں گجرات پہنچا ۔ عدم تشدد کے پجاری مہاتما گاندھی کے اس زمین پر امن کا پیغام دینے کے لئے احمد آباد کے جوہاپورا علاقے میں ایک پروگرام کا اہتمام  کیا گیا،  جس میں مسلم برادری کے لوگ بڑی تعداد میں موجود رہے۔ کاروانِ محبت کا سفر  شروع کرنے والے ہرش مندر نے کہا کہ آج پورے ملک میں اقلیتی برادری کے لوگوں میں نا امیدی  چھائی ہوئی ہے۔ ہمارے اس سفر کا مقصد ہے کہ ہم لوگوں سے ملیں اور بتائیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں۔

نفرت کے اس دور میں ’ كاروانِ محبت ‘ پہنچا احمدآباد، کیا گیا شاندار استقبال

کاروان محبت کی یہ ٹیم گجرات کےمختلف اضلاع میں جن لوگوں کے ساتھ کسی بھی طریقے کی نا انصافی ہوئی ہے، ان سے ملاقات کر یہ بتا رہی ہے کہ ہمارا سماج جس طریقے سے بن رہا ہے، اس کو لے کرہم شرمندہ ہیں۔ جوہا پورا میں ہونے والے پروگرام سے پہلےٹیم کے لوگوں نے وٹوہ علاقے میں ایوب کی فیملی سے ملاقات کی ، جس کا پچھلے عید الاضحیٰ کے موقع پر گئو رکشکوں نے قتل کردیا تھا۔ کاروان محبت کی اس ٹیم کا احمدآباد کے امن پسند لوگوں اور این جی او سے جڑے لوگوں کے ساتھ ہی ساتھ سماجی کارکنوں  نے دل کھول کر استقبال کیا اور کہا کہ آج جس طریقے سے ہندوستان کے حالات ہیں اس میں ایسے پہل کی کافی اہم ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز