پڑھیں : آخر گجرات میں کانگریس کا کیوں دامن تھامنے جارہے ہیں الپیش ٹھاکر ، ہاردک اور جگنیش کو لے کر بھی قیاس آرائی

Oct 22, 2017 09:51 PM IST | Updated on: Oct 22, 2017 09:52 PM IST

احمد آباد : گجرات اسمبلی انتخابات سے عین قبل او بی سی ، ایس سی اور ایس ٹی ایکتا منچ کے لیڈر الپیش ٹھاکر کے کانگریس میں شمولیت کے اعلان سے بی جے پی کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں ۔ الپیش 23 اکتوبر کو راہل گاندھی کی ریلی میں کانگریس کا دامن تھامیں گے ۔ پٹیدار آندولن کی طرح ہی ٹھاکر نے او بی سی ، ایس سی اور ایس ٹی منچ کے تحت آندولن کی شروعات کی تھی۔

اس درمیان سوالات اٹھ رہے ہیں کہ الپیش ٹھاکر نے آخر کانگریس سے وابستہ ہونے کا کیوں فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ اس کی اصل وجہ الپیش کی جانب سے کرایا گیا ایک سروے ہے۔ اس میں حصہ لینے والے لوگوں نے الپیش کو کانگریس میں جانے کا مشورہ دیا تھا۔

 پڑھیں : آخر گجرات میں کانگریس کا کیوں دامن تھامنے جارہے ہیں الپیش ٹھاکر ، ہاردک اور جگنیش کو لے کر بھی قیاس آرائی

ہاردک پٹیل، او بی سی ایکتا منچ کے رہنما الپیش ٹھاكر اور دلت لیڈر جگنیش میواني: فائل فوٹو۔

الپیش ٹھاکر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس سروے میں 21 لاکھ سے زیادہ فون آئے اور پانچ لاکھ لوگوں نے فارم بھے ۔ ٹیلی فونک سروے میں 19.72 لاکھ لوگوں نے کانگریس کے ساتھ جانے کے حق میں ووٹ دیا۔ جبکہ بی جے پی کے حق میں صرف 1.06 لاکھ لوگ ہی نظر آئے ۔ ساتھ ہی ساتھ تقریبا 42 ہزار افراد نے سیاست میں نہ جانے کا مشورہ دیا۔ وہیں فارم کے ذریعہ سروے میں شامل ہونے والے لوگوں میں سے تقریبا 81 فیصد لوگوں نے کانگریس کے لئے ہاں کہا ۔ صرف نو فیصد لوگوں نے بی جے پی کی حمایت کی۔ تیسرے مورچے کی حمایت میں صرف 2.14 فیصد لوگ ہی گئے۔

علاوہ ازیں اس بات کی بھی چرچا ہورہی ہے کہ الپیش ٹھاکر کے ساتھ ہی ہاردک پٹیل اور دلت لیڈر جگنیش میوانی بھی کانگریس کا دامن تھام سکتے ہیں ۔ یہ تینوں نوجوان لیڈر اس مرتبہ گجرات کے اسمبلی انتخابات میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز