اورنگ آباد ضلع پریشد کے اردو میڈیم ہائی اسکولوں میں مراٹھی میڈیم کے ہیڈ ماسٹر

Jan 18, 2017 03:11 PM IST | Updated on: Jan 18, 2017 03:11 PM IST

اورنگ آباد۔ ضلع پریشد کے تحت اورنگ آباد اور مضافات میں چلنے والے اردو اسکولوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ ضلع پریشد کے  پچانوے فیصد ہائی  اسکول ایسے ہیں جہاں ایک ہی ہیڈ ماسٹر مراٹھی میڈیم اردو میڈیم  کی دوہری  ذمہ داری ادا کرنے پر مجبور ہے ۔    اورنگ آباد میں ضلع پریشد کے تحت چلنے والا شہر کا قدیم ترین اسکول جو پہلے مدرسہ فوقانیہ کہلاتا تھا اب اسے ضلع پریشد ہائی اسکول کہا جاتا ہے ۔ اس اسکول میں اردو میڈیم اور مراٹھی میڈیم  کے طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں ۔ 1935 میں قائم  اس اسکول کی اپنی ایک تاریخ ہے لیکن کڑوا سچ یہ ہے کہ اپنے قیام سے لیکر آج تک  اس اسکول میں اردو میڈیم اور مراٹھی میڈیم کے  لیے ہیڈ ماسٹر کا  ایک ہی عہدہ ہے۔

یہ صرف ایک اسکول کا معاملہ نہیں بلکہ  مراٹھواڑہ  میں  ضلع پریشد کے ایسے 299 اسکول  ہیں  جن میں  ہیڈ ماسٹر کے 95 فیصد عہدے خالی ہیں۔ ان اسکولوں میں ایک ہی  ہیڈ ماسٹر پر دوہری ذمہ داریوں کا بوجھ عائد ہے ، جن میں زیادہ تر اردو اسکولوں کے لیے مراٹھی  میڈیم کے ہیڈ ماسٹر خدمات انجام دے رہے ہیں۔  ایسے میں طلبا کا تعلیمی معیار کیا ہوگا، اس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔   تعلیمی میدان میں کام کرنے  والے  این سی پی لیڈر کلیان کاڑے نے  ہیڈ ماسٹر کے خالی عہدوں کو فوری پر پرکرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

اورنگ آباد ضلع پریشد کے اردو میڈیم ہائی اسکولوں میں مراٹھی میڈیم کے ہیڈ ماسٹر

 مہاراشٹر میں  پانچ مئی  2012 سےسرکاری سطح پر اساتذہ کی تقرریوں پر پابندی عائد ہے ۔ دوسری طرف سر پلس کے ہتھیار سے  حکومت اساتذہ  کا صفایا کرتی رہی ہے ۔ اس تعلق سے ریاست گیر سطح پر مخالفت ہونے پر حکومت  بیک فٹ پر آگئی لیکن آج بھی  اردو میڈیم کے ایسے ہزاروں اساتذہ ہیں جن کا مسئلہ حل طلب ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز