مہاراشٹر اے ٹی ایس چیف کی دہشت گردی کی تباہی سے نوجوانوں کو بچانے کیلئے علما سے اہم رول اداکرنے کی اپیل

May 17, 2017 09:15 PM IST | Updated on: May 17, 2017 09:15 PM IST

ممبئی : ممبئی میں گزشتہ شب مسلم معززین اور علماء کرام کی موجودگی میں خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر انٹی ٹررسٹ اسکواڈ (اے ٹی ایس) چیف اتل چند رکلکرنی نے واضح طورپر کہا کہ دہشت گردی ہندوستان سمیت دنیا بھر میں ایک چیلنج کی شکل اختیار کرچکی ہے اور ملک میں اس کاشکار بن رہے اقلیتی فرقے کے نوجوانوں کی حفاظت کے لیے علماء کرام ،مسلم معاشرہ اور والدین کو اہم رول اداکرنا ہے اور اس کے لیے علماء کا فرض بنتا ہے کہ وہ بغیر کسی ملاوٹ اور توڑمروڑ کے بجائے ان بھٹکے ہوئے نوجوانوں کو دین کی بہتر سے بہتر معلومات دی،کیونکہ انکی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے اور سب کو اس کا متحد ہوکر مقابلہ کرنا ہوگا۔

اتل کلکرنی نے علماء کرام کو مخاطب کرتے ہوئے واضح طورپر کہاکہ ’’میں بلاجھجھک یہ کہہ سکتا ہوں کہ مسلم نوجوان علماء کرام اور ان کے رہنماؤں گرفت سے نکل چکے ہیں اور انہیں اس چنگل سے نکالنے کے لیے علماء کرام کو اہم رول اداکرنا ہوگا۔ورنہ حالات مزید ابتر ہوجائیں گے۔انہوں نے موقع پر اپنے کئی تجربات پیش کیے اور دعویٰ کیا کہ ان نوجوانوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے جوکہ خطرناک رُخ اختیار کرسکتا ہے ،ویسے متعدد نوجوانوں ،جن میں تعلیمیافتہ لڑکیاں بھی شامل ہیں،والدین،علماء کرام اور مقامی معززین کی مدداور تعاون سے اس دلدل سے نکال لیا گیا ہے۔

مہاراشٹر اے ٹی ایس چیف کی دہشت گردی کی تباہی سے نوجوانوں کو بچانے کیلئے علما سے اہم رول اداکرنے کی اپیل

file photo

اے ٹی ایس چیف کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ پرداعش یا اسلامک اسٹیٹ کی جانب سے جدید ترین حربے اور طریقے استعمال کرکے بھولے بھالے نوجوانوں کو بہکایا جاتا ہے۔کوئی نوجوان مذہبی سوال کرتا ہے تو اسے دوسری جانب سے توڑمروڑ کر جواب دیا جاتا ہے اور ان کی تربیت میں تین یا چار مہینے جاری رہتی ہے ،لیکن کمرے میں بیٹھاکر اس کا عالمی نظریہ بدل کر رکھ دیاجاتا ہے ۔کئی مواقع ایسے آتے ہیں جب انہیں الگ الگ لوگ تربیت دیتے ہیں۔نیٹ پر ویب کیمرے کے ذریعہ نوجوان کا چہرہ نظرآتا ہے ،لیکن تربیت کار کی شکل نظرنہیں آتی ہے۔انہیں ہر ایک مذہبی نظریات کو ترمیم کرکے بتایا جاتاہے۔پولیس کے پاس ان تمام معاملات میں الیکٹرونک پروف ہے ،گزشتہ سالکل ملاکر دوکیس ہوئے ہیں جبکہ ایسے60معاملات سامنے آئے ہیں،جن میں نوجوان زیادہ کچھ نہیں کرتا ہے اس کو بچایاجاتا ہے اور اس کے لیے مقامے علماء ،والدین اور معززین کی مدد لی جاتی ہے اور یہ افسو س ناک حقیقت ہے کہ انکی تعداد زیادہ ہے۔

اتل کلکرنی کے مطابق ان کی نوجوان کی عمر16اور 17سال کی جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں،خودفرانس جیسے ملک سے بڑی تعداد میں لڑکے لڑکیاں داعش میں شامل ہونے پہنچ چکے ہیں۔ آخر میں انہیں ٹارگٹ دیا جاتاہے اور نوجوان ان کی ہدایت کے تحت نشانہ بنانے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ان سرگرمیوں کو روکنے کے لیے پولیس اور اے ٹی ایس کو والدین ،این جی اوز کے ساتھ ساتھ علماء کرام کی بھی مدد چاہئے ۔

علماء سے اے ٹی ایس سربراہ علماء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم نوجوان انکی گرفت سے نکل گئے ہیں اوران کا اعتماد بحال کرنا علماء کرام کی ذمہ داری ہے۔کیونکہ وہ آپ پر بھروسہ کرتاہے ،اس لیے انہیں بغیر توڑمروڑ کر ہر ایک دینی باتیں کھل کر بتائیں۔اس کی بنیاد پر انہیں چنگل سے نکالاجاسکتا ہے۔ورنہ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس کی ہرممکن کوشش جاری ہے اور ان نوجوانوں کو تباہی سے بچانے کے لیے ہرممکن کوشش کی جائے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز