اب مہاراشٹر کی نصابی کتاب میں اندرا گاندھی کا دوراقتدار منفی طریقے سے پیش

Jul 22, 2017 02:58 PM IST | Updated on: Jul 22, 2017 02:58 PM IST

 ممبئی۔ فلم اندوسرکار کےذریعے سابق وزیراعظم اندراگاندھی کی شبیہ کومسخ کرنے کے الزام کے درمیان اب نصابی کتاب میں اندرا گاندھی کے دوراقتدارکو منفی طریقے سے اجاگر کرنے کا معاملہ سامنےآیا ہے۔ مہاراشٹرایجوکیشن بورڈ کی بال بھارتی کی 9 ویں جماعت کی تاریخ کی کتاب میں اندرا گاندھی کے دوراقتدارکو منفی طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اندراگاندھی کے ذریعے سرکاری مشنری کے غلط استعمال اور ایمرجنسی کو اجاگر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسی نصاب میں راجیو گاندھی کے دوراقتدارمیں بوفورس بدعنوانی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ نصاب میں سابق وزرائے اعظم کے منفی پہلؤں کو اجاگر کرنے کے معاملے کوماہرین غلط تصور کررہے ہیں۔

اسی کتاب میں دیگر وزرائے اعظم کا بھی ذکر موجود ہے۔ لیکن ان کے متعلق منفی چیزیں نہیں ملتیں جبکہ کتاب میں بابری مسجد تنازعہ کا بھی ذکر موجود ہے۔ ماہرین اسے نصاب کے بھگواکرن کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ بال بھارتی اور کمار بھارتی سے متعلق افسران کا کہنا ہیکہ نصابی کتابوں کی اشاعت سے قبل اس سے متعلق اعتراض کو طلب کیا جاتا ہے۔ کتاب کے مسودے پر مسلم ماہرین اور دانشوروں کے اعتراض خال خال ہی دستیاب ہوتے ہیں۔ مہاراشٹر کی نصابی کتابوں میں کسی وزیراعظم کے دور اقتدارکی نفی بیانی کا یہ پہلا موقع ہے۔ ماہرین کا ماننا ہیکہ نصابی کتابوں میں مخصوص سیاسی جماعت کے رہنماؤں کے منفی پہلووں کواجاگر کرنا طلبہ و طالبات میں مخصوص سیاسی ذہنیت کو پروان چڑھا سکتا ہے جوکسی بھی صحت مند معاشرے کی تشکیل کیلئے مفید نہیں ہے۔

اب مہاراشٹر کی نصابی کتاب میں اندرا گاندھی کا دوراقتدار منفی طریقے سے پیش

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز