دہشت گردی کے الزام سے تین مسلم نوجوان بری ، لیکن جعلی نوٹ رکھنے کے الزام میں دو کوچھ سال کی سزا

ممبئی کی خصوصی سیشن عدالت نے آج یہاں دہشت گردی کے الزام سے تین مسلم نوجوانوں کو ایک جانب جہاں بری کردیا وہیں جعلی نوٹ رکھنے کے الزام میں دوملزمین کو چھ سال کی سزا سنائی

Feb 07, 2018 07:03 PM IST | Updated on: Feb 07, 2018 07:03 PM IST

ممبئی : ممبئی کی خصوصی سیشن عدالت نے آج یہاں دہشت گردی کے الزام سے تین مسلم نوجوانوں کو ایک جانب جہاں بری کردیا وہیں جعلی نوٹ رکھنے کے الزام میں دوملزمین کو چھ سال کی سزا سنائی ، حالانکہ ملزمین اب تک جیل میں چھ سال سے زائد کا عرصہ گزارچکے ہیں۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیت علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔ گلزاراعظمی نے مزید بتایا کہ ممبئی کی سیشن عدالت کے جج وی پی اہواڑ نے ہارون عبدالرشید نائیک سمیت اسرار احمد عبدالحمید، اظہر الاسلام محمد ابراہیم صدیقی کو دہشت گردی کے قانون یواے پی اے (غیر قانونی سرگرمیوں کے روک تھام والا قانون) سے بری کردیا جبکہ کے انہیں جعلی کرنسی رکھنے کے تحت تعزیرات ہند کی دفعہ 489۔ سی کے تحت چھ سال کی سزاسنائی۔

گلزار احمد اعظمی نے بتایا کہ عدالت نے ملزم اظہر الاسلام ، محمد صدیق کو تمام الزامات سے بری کردیا جبکہ ملزمین ہارون عبدالرشید نائک ، اسرار احمد عبدالحمیدکو جعلی کرنسی رکھنے کا مجرم پایا گیا اور انہیں چھ سال کی سزااور دس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں جمعیت علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان اور ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے و دیگر نے ملزمین کی پیروی کی جبکہ استغاثہ کی جانب سے ایڈوکیٹ روہنی سالیان نے اپنے دلائل عدالت کے سامنے پیش کیئے نیز استغاثہ کی جانب سے عدالت میں ملزمین کے خلاف 29 سرکاری گواہوں نے اپنے بیانات کا اندارج کرایا جبکہ ملزمین کے حق میں دفاعی وکلاء نے 8 گواہوں کو عدالت کے روبرو پیش کیا جس میں ملزمین کی اپنی گواہیاں بھی شامل ہیں۔

دہشت گردی کے الزام سے تین مسلم نوجوان بری ، لیکن جعلی نوٹ رکھنے کے الزام میں دو کوچھ سال کی سزا

علامتی تصویر

واضح رہے کہ اس معاملے میں ملزمین ہارون عبدالرشید نائک سمیت اسرار احمد عبدالحمید، اظہر الاسلام محمد ابراہیم صدیقی کو مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ اے ٹی ایس نے سال 2011 میں گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند اور غیر قانونی سرگرمیوں کے روک تھام والے قانونی(یو اے پی اے) کی مختلف دفعات سمیت دیگر قوانین کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا اور ملزمین پر الزام عائد کیا تھاکہ ان کے قبضہ سے غیر قانونی جعلی ہندوستانی کرنسی ضبط کی گئی تھی جس کا استعمال وہ دہشت گردانہ معاملات میں کرنا چاہتے تھے نیز انہیں یہ کرنسی سرحد پار سے مہیا کرائی گئی تھیں۔

جمعیت علماء قانونی امدادکمیٹی کے سکریٹری گلزاراحمد اعظمی نے کہا کہ ہم عدالت کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں اور اپنے سینئر وکلاسے صلاح ومشورہ کے بعد عدالت کے اس فیصلے کو ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز