وقف بورڈ ارکان کے دباؤ میں غلط کام کرنے کی بجائے میں نے استعفی دینا مناسب سمجھا : ایم ایم شیخ

مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ کے کاراگزار چیئرمین ایم ایم شیخ اور دیگر ممبران کی رسہ کشی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔

Nov 17, 2017 09:10 PM IST | Updated on: Nov 17, 2017 09:10 PM IST

اورنگ آباد: مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ کے کاراگزار چیئرمین ایم ایم شیخ اور دیگر ممبران کی رسہ کشی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ چیئرمین کےعہدہ سے استعفی دینےکے بعد ایم ایم شیخ نے پہلی مرتبہ میڈیا سے بات چیت کی ۔ ایم ایم شیخ کا دعوی ہے کہ بورڈ کے ارکان کےدباؤ میں کام کرنے کی بجائےاستعفی دینا انہوں نے مناسب سمجھا۔ ایم ایم شیخ نے بورڈ ممبران پر سنگین الزامات بھی عائد کیے ۔ پوری ریاست میں 95 ہزار ایکڑ اراضی وقف جائیداد کےطور پر رجسٹرڈ ہے، جس سے میں سے صرف مراٹھواڑہ میں 55 ہزارایکڑ وقف کی جائیدادہے، لیکن بورڈ ممبران کی رسہ کشی کے چلتے ان جائیدادوں کےتحفظ اورترقیاتی کاموں پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے ۔

مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ کےکارگزار چیئرمین اور ممبران کے درمیان آپسی سر پھٹول کا سلسلہ جاری ہے۔ میڈیا سے بات چیت میں کار گزار چیئرمین ایم ایم شیخ نے بورڈ ارکان پر نامزد طریقے سے الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ ممبران کےکام نہیں ہونے کی وجہ سے تحریک عدم اعتماد کی شکل میں بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی ۔تاہم انھوں نے چیئرمین کےعہدہ سے دستبردار ہونا مناسب سمجھا۔

وقف بورڈ ارکان کے دباؤ میں غلط کام کرنے کی بجائے میں نے استعفی دینا مناسب سمجھا : ایم ایم شیخ

کار گزار چیئرمین نے بورڈ کے رکن حبیب فقہی کی رکنیت پر بھی سوال اٹھایا اور یہ انکشاف کیا کہ حبیب فقہی بوگس متولی ہیں۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے۔ اتنا ہی نہیں حبیب فقہی پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ انہوں نے اپنے قریبی سلیم پٹیل واہے گاؤنکر کو اورنگ آباد کے نکشتر واڑی میں واقع وقف جائیداد دلانے کے لیے دباؤ بنایا تھا ، لیکن چیئرمین کا دعوی ہے کہ انھوں نےاسے قبول نہیں کیا ۔ ان کے مطابق ایسے متعدد معاملات ہیں ، جو غیر قانونی طریقے سے کروانے پر زور دیا جا رہا تھا۔

تاہم جالنہ روڈ پر واقع چتلانگے اگروال کو لیز پر دی گئی وقف جائیداد کے کرایہ نامہ کے تعلق سے پوچھے گئے سوال پرکار گزار چیئرمین اطمینان بخش جواب نہیں دے پائے ۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز