عصمت دری اور قتل کے ملزمین کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گی جمعیۃ علما ہند

Nov 15, 2017 04:46 PM IST | Updated on: Nov 15, 2017 04:46 PM IST

ممبئی: مہاراشٹر کے علاقے مراٹھواڑہ کے ضلع بیڑ کے ماجل گاؤں علاقے کے قصبہ چورمبھا میں ماں اور بیٹی کو عصمت دری کے بعد قتل کردیئے جانے کے معاملے میں ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ سے راحت پانے والے دوملزمین کے خلاف جمعیۃ علماء سپریم کورٹ سے رجو ع ہوگی کیونکہ ریاستی حکومت نے ملزمین کی رہائی کے خلاف ابتک اپیل داخل نہیں کی ہے۔اس فیصلے کی اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی ۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ قتل اور عصمت دری کے معاملے میں زیریں عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے دو غیر مسلم کرشنا راؤ ریڈی اور اچرت کچرو چونچے کو گذشتہ 14 اگست کو ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے جسٹس ایس ایس شند ے اور جسٹس کے کے سونو نے نا کافی ثبوت کی بناء پر پھانسی کی سزا کو معطل کرتے ہوئے انہیں باعزت رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے تھے جس کے بعد علاقے کی عوام خصوصاً اقلیتی فرقے میں شدیدبے چینی پائی جارہی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ کے مشتبہ کرردار اداکرنے سے ملزمین کو راحت ملی ہے۔سرکاری وکیل نے ہائی کورٹ میں پوری شدت سے بحث نہیں کی ۔ سرکاری وکیل ایمانداری سے کام کرتا تو ملزمین کو پھانسی کی سزا سے کوئی بچا نہیں سکتا تھا کیونکہ دونوں ملزمین نے مسلم ماں بیٹی کا ریپ کرنے کے بعد انہیں بے رحمی سے قتل کردیا تھا ۔

عصمت دری اور قتل کے ملزمین کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گی جمعیۃ علما ہند

گلزار اعظمی کے مطابق تادم تحریر ریاستی سرکار نے اورنگ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج نہیں کیا ہے، دوسری جانب ملزمین پر شکنجہ کسنے کے لیئے جمعیۃ علماء نے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ گور اگروال کو مقرر کیا ہے جو اگلے چند ایام میں ملزمین کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل داخل کردیں گے۔

گلزار اعظمی نے مقدمہ کے تعلق سے مزید بتایا کہ 28 مئی 2015ء کو ملزمین نے نورجہاں (55) اور پروین (14) کو کھیت میں واقع ان کے گھر میں عصمت دری کرنے کے بعد قتل کردیا تھا جس کے بعد پولس نے مقدمہ قائم کرکے اسپیشل عدالت میں تیزی سے مقدمہ کی سماعت مکمل کرائی جس کے دوران خصوصی جج ایم وی مورالے نے ملزمین کو تعزیرات ہند کی دفعات 376.302 اور پاکسو قانونی کی مختلف دفعات کے تحت قصور پایا تھا اور انہیں پھانسی کی سزا دیئے جانے کا فیصلہ سنایا تھا جس کے بعد ملزمین نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جہاں استغاثہ کے مشتبہ کردار کی وجہ سے ملزمین کو راحت حاصل ہوئی اور انہیں شک کا فائدہ دیتے ہوئے باعزت بری کردیا گیا ۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ اورنگ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرکے ملزمین کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیئے جمعیۃ علماء نے اقدامات شروع کردیئے ہیں اپیل داخل ہونے اور سماعت کے لیئے قبول ہونے کے بعد سینئر وکلاء کی خدمات حاصل کی جائیں گی نیز انہوں نے علاقے کی عوام سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی گذارش کی ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز