مالیگاوں بم دھماکہ کیس : این آئی اے کو خفت کا سامنا ، مداخلت کا ر کو اہم دستاویزات مہیا کرانے کا ممبئی ہائی کورٹ نےدیا حکم

قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کو اس وقت ہزیمت اٹھانی پڑی جب ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے ایجنسی کو حکم دیا کہ وہ مداخلت کار کو ملزمہ کے خلاف موجود ثبوت و شواہد کے دستاویزات مہیا کرائے

Jan 19, 2017 08:15 PM IST | Updated on: Jan 19, 2017 08:15 PM IST

ممبئی : مالیگاؤں 2008بم دھماکہ معاملے کی کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کی ضمانت عرضداشت کی سماعت کے دوران آج قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کو اس وقت ہزیمت اٹھانی پڑی جب ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے ایجنسی کو حکم دیا کہ وہ مداخلت کار کو ملزمہ کے خلاف موجود ثبوت و شواہد کے دستاویزات مہیا کرائے نیز یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں مداخلت کار کے دلائل کی سماعت کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ مداخلت کار کے علاوہ تمام فریق ملزمہ کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کی وکالت کررہے ہیں ۔

ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس رنجیت مورے اور جسٹس پھانسالکر جوشی کے روبرو ملزمہ سادھوی پرگیا سنگھ کی ضمانت عرضداشت پر ملزمہ کے وکلاء نے بحث کی اور عدالت کو بتایا کہ قومی تفتیشی ایجنسی کی تازہ تحقیقات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ملزمہ کو اس معاملے میں اے ٹی ایس نے جھوٹا پھنسایا ہے نیز سپریم کورٹ نے بھی اپنے حکمنامہ میں یہ کہ دیا ہیکہ ملزمہ کے خلاف مکوکا قانون کی دفعات کا اطلاق نہیں ہوتا ۔

مالیگاوں بم دھماکہ کیس : این آئی اے کو خفت کا سامنا ، مداخلت کا ر کو اہم دستاویزات مہیا کرانے کا ممبئی ہائی کورٹ نےدیا حکم

دفاعی وکلاء کی بحث کے بعد عدالت نے قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے اور ریاستی انسداد دہشت گرد دستہ اے ٹی ایس کو اپنے موقف کا اظہا رکرنے کیلئے کہا ، جس کے بعد دونوں تحقیقاتی ایجنسیوں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں سادھوی کی ضمانت عرضداشت پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور عدالت اس کے سامنے موجود ثبوت و شواہد کی روشنی میں ملزمہ کی عرضداشت پر فیصلہ کرے ۔

دفاعی وکلا اور تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے سادھوی کو کلین چٹ دیئے جانے کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد دمدنی) کے وکلا کے ساتھ حقوق انسانی کے لئے کام کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ بی اے دیسائی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اس پر سخت حیرت ہے کہ اس معاملہ میں استغاثہ دفاع کا کردار ادا کررہا ہے ، جبکہ اسے ملزمہ کی ضمانت عرضداشت کی اے ٹی ایس کی تفتیش کی روشنی میں سخت مخالفت کرنی چاہئے تھی ۔

ایڈوکیٹ بی اے دیسائی نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقاتی دستوں نے مداخلت کار کو ملزمہ کے خلاف موجود ثبوت و شواہد کے دستاویزات کی نقول فراہم نہیں کی ہے ، جس کی وجہ سے وہ عدالت کو یہ بتانے سے قاصر ہے کہ ان بم دھماکوں میں جس میں 7 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے ، اس نے دیگر ملزمین کے ساتھ کیا کردار ادا کیا تھا ۔ پہلے تو تحقیقاتی دستوں نے مداخلت کار کو مطلوبہ دستاویزات مہیا کرانے سے انکار کیا ، لیکن پھر عدالت کی سخت ہدایت کے بعد معاملہ کی اگلی سماعت یعنی 31 جنوری سے قبل مداخلت کا ر دستاویزات مہیا کرانے کا یقین دلایا۔

ایڈوکیٹ بی ایس دیسائی نے بتایا کہ ملزمین کے اقبالیہ بیانات، گواہوں کے بیانات، ملزمین کے موبائل فون کی تفصیلات جیسے اہم دستاویزت موصول ہوجانے کے بعد وہ عدالت کو اچھے ڈھنگ سے یہ بتایا پائیں گے کہ ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کا کیا کردار رہا ہے ان بم دھماکوں میں ۔ ایڈوکیٹ دیسائی نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزمہ کی ضمانت عرضداشت کو سپریم کورٹ سے لے کر نچلی عدالتوں نے متعد مرتبہ مسترد کردیا ہے ، کیونکہ اس کے خلاف پختہ ثبوت موجود ہیں اور اگر ملزمہ کو ضمانت پر رہا کیا گیا تو وہ اس کے خلاف موجود ثبوت وشواہد کو مٹانے کی کوشش کرے گی ۔ نیز خرابی صحت ضمانت کی وجہ نہیں ہوسکتی ، کیونکہ حال ہی میں ممبئی ہائی کورٹ نے سابق ریاستی وزیر چھگن بھجبل کی ضمانت مسترد کردی تھی اوران کا جیل میں ہی علاوج و معالجہ جاری ہے ۔

آج دن بھری چلی کارروائی کے دوان ممبئی ہائی کورٹ وکلا وصحافیوں سے کھچاکچ بھری ہوئی تھی ۔ ایک جانب جہاں بھگوا دہشت گردوں کے دفاع میں ایک درجن سے زائد وکلا موجود تھے ، وہیں متاثرین کی پیروی کرنے کے لئےجمعیۃ علما کی جانب سے بھی وکلا کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کی جانب سے ایڈیشنل سالسٹرجنرل انیل سنگھ عدالت میں حاضر ہوئے تھے ، جبکہ اے ٹی ایس کی نمائندگی کے لئے بھی وکلا موجود تھے ، جنہوں نے اس معاملہ میں عدالت سے گزارش کی کہ وہ اس کے سامنے موجود ثبوت وشواہد کی روشنی میں کوئی فیصلہ کرے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز