مالیگاؤں بم دھماکہ کیس : ملزم پروین ٹکلکی کی ضمانت منسوخ کئے جانے کا مطالبہ ، مرکزاور ریاستی حکومت سے جواب طلب

Feb 27, 2017 09:33 PM IST | Updated on: Feb 27, 2017 09:34 PM IST

ممبئی: مالیگاؤں 2008بم دھماکہ معاملے کے ملزم پروین ٹکلکی جسے خصوصی این آئی اے عدالت نے گذشتہ برس مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے تھے کی متاثرین کی جانب سے ضمانت منسوخ کئے جانے والی عرضداشت پر آج بامبے ہائی کورٹ مرکزی حکومت سمیت ریاستی حکومت اور ضمانت پر رہا شدہ ملزم کو نوٹس جاری کیا جس سے بھگواء دہشت گردوں کو شدید دھچکہ لگا ہے ۔

متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزاراعظمی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مالیگاؤں ۲۰۰۸ بم دھماکہ کے ملزم پروین ٹکلی کو قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اےنے کلین چٹ دی تھی جس کے بعد خصوصی این آئی اے عدالت کے جج ایس ڈی ٹیکولے نے 5؍ ستمبر 2016 کو ملزم کو مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے تھے لیکن نچلی عدالت کے فیصلہ سے غیر مطمئن متاثرین نے جمعیۃ علماء سے ملزم کی ضمانت منسوخ کئے جانے کے تعلق سے قانونی اقدامات کرنے کی گذارش کی تھی جس کے بعد ایڈوکیٹ شریف شیخ نے ملزم پروین ٹکلکی کی ضمانت منسوخ کئے جانے کے لیئے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس کی سماعت آج عمل میں آئی ۔

مالیگاؤں بم دھماکہ کیس : ملزم پروین ٹکلکی کی ضمانت منسوخ کئے جانے کا مطالبہ ، مرکزاور ریاستی حکومت سے جواب طلب

File image of Bombay high court

گلزا راعظمی نے بتایا کہ بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس وی کے تہلرمانی اور جسٹس اے ایم بدر نے یونین آف انڈیا، اسٹیٹ آف مہاراشٹر اور ملزم پروین ٹکلکی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اپنی سماعت ملتوی کردی ۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ ہائی کورٹ کا اس معاملے میں فریقین کو نوٹس جاری کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے نیز انہیں امید ہے کہ بحث کے دوران مداخلت کار کے دلائل کو مد نظر رکھتے ہوئے عدالت فیصلہ کریگی۔

واضح رہے کہ مالیگاؤں 2008بم دھماکہ معاملے میں ریاستی انسداد دہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس) کی جانب سے داخل کردہ فرد جرم میں ملزم پروین ٹکلکی کو اس پورے معاملے کا ایک اہم ملزم بتایا گیا تھا اور اس نے اقبالیہ بیان بھی دیا تھا کہ ان بم دھماکوں کی سازش میں وہ دیگر ملزمین کے ساتھ ملوث تھا لیکن معاملے کی تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے این آئی اے نے اضافی چارج شیٹ داخل کی اورملزم کو کلین چٹ دیتے ہوئے اس کی ضمانت عرضداشت کی مخالفت تک نہیں کی جس کے بعد اسے نچلی عدالت نے ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے ۔

اب جبکہ متاثرین اس معاملے میں بامبے ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے ہیں ، بامبے ہائی کورٹ کو ملزم کے خلاف موجود ثبوت وشواہد کی روشنی میں نچلی عدالت کے فیصلہ پر نظر ثانی کرنا پڑے گی کیونکہ این آئی اے کی تحقیقات سے قبل نچلی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک نے ملزم کی ضمانت مسترد کی تھی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز