مودی لہر دلا پائے گی جیت ؟ اس میونسپل انتخابات میں بی جے پی نے 45 مسلمانوں کو ٹکٹ دیا

May 18, 2017 10:45 PM IST | Updated on: May 18, 2017 10:48 PM IST

ممبئی: 24 مئی کو ہونے والے مالیگاؤں میونسپل انتخابات میں اس مرتبہ بی جے پی نے مسلم امیدواروں پر اپنا داو کھیلا ہے اور سب سے زیادہ مسلم امیدواروں کو اتارا ہے۔ پارٹی نے کارپوریشن کی 84 سیٹوں میں سے 77 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے ہیں جن میں سے 45 مسلم امیدوار ہیں۔ ملک میں بی جے پی کی جانب سے زیادہ سے زیادہ مسلمان امیدوار اتارنے کا یہ ریکارڈ ہے۔

اتنی بڑی تعداد میں امیدوار میدان میں اتارنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ 2012 کے مالیگاؤں انتخابات میں بی جے پی نے 24 امیدوار انتخابات میں کھڑے ہوئے تھے ، لیکن سب کو ہار کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔یہی نہیں ان میں سے 12 امیدواروں کی ضمانت بھی ضبط ہوگئی تھی۔

مودی لہر دلا پائے گی جیت ؟ اس میونسپل انتخابات میں بی جے پی نے 45 مسلمانوں کو ٹکٹ دیا

علامتی تصویر

ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دے کر اقلیتوں میں بی جے پی اپنی مودی لہر کی جانچ کر رہی ہے۔ مالیگاؤں میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی ہے اور اس نے 73 امیدوار یہاں اتارے ہیں ، اس کے بعد این سی پی-جنتا دل (سیکولر) کے 66 امیدوار ہیں۔ حیدرآباد کے اسدالدین اویسی کی صدارت والی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین پہلی مرتبہ مالیگاؤں میں انتخابات لڑ رہی ہے اور اس کے 32 امیدوار میدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ شیوسینا کے 25 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔

خیال رہے کہ یوپی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا تھا، جس کی وجہ سے پارٹی کی جم کر کرکری ہوئی تھی۔یہاں تک کی مودی حکومت کے دو مرکزی وزرا نے بھی پارٹی پر سوال کھڑے کئے تھے۔ مرکزی وزیر اوما بھارتی نے کہا تھا کہ بی جے پی نے یوپی انتخابات میں کسی مسلم امیدوار کو نہیں اتار کر بڑی بھول کی۔ وہیں مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا تھا کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے اگر مسلمانوں کو ٹکٹ دیا ہوتا تو اچھا ہوتا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز