منگلور دہشت گردانہ معاملہ : فریقین کی بحث مکمل ، فیصلہ 10 اپریل کو متوقع ، 90 گواہوں کو کیا گیا پیش

بھٹکل برادران کو منگلور شہر میں پناہ دینے والے معاملے میں گرفتار 7 ملزمین کے مقدمہ کی سماعت مکمل ہوچکی ہے اور فیصلہ 10اپریل کو متوقع ہے۔

Apr 06, 2017 05:45 PM IST | Updated on: Apr 06, 2017 05:45 PM IST

ممبئی: ممنوع دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین کے رکن ہونے اور انڈین مجاہدین نامی تنظیم کے مبینہ بانیوں بھٹکل برادران کو منگلور شہر میں پناہ دینے والے معاملے میں گرفتار 7 ملزمین کے مقدمہ کی سماعت مکمل ہوچکی ہے اور فیصلہ 10اپریل کو متوقع ہے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امدا د فراہم کرنے والی تنظیم جمعیت علماء مہاراشٹر (ارشدمدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ ماہ اکتوبر2008میں ریاض بھٹکل اور دیگر انڈین مجاہدین تنظیم سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پناہ دینے نیز انڈین مجاہدین تنظیم سے وابستہ ہونے کے الزامات کے تحت منگلور پولیس نے سید محمد نوشاد، احمد باوا، محمد علی، محمد رفیق ، فقیر احمد اور شبیر بھٹکل کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کی مختلف دفعات اوریو اے پی اے قانون کی دفعات 10, 11, 13,16,17,18,19,20,21 سمیت آرمس ایکٹ اور ایکسپلوزیو سبسٹنس کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا۔

منگلور دہشت گردانہ معاملہ : فریقین کی بحث مکمل ، فیصلہ 10 اپریل کو متوقع ، 90 گواہوں کو کیا گیا پیش

گلزار اعظمی نے کہا کہ اس معاملے کا سامنا کررہے 6ملزمین کو عدالت نے دو سالوں کی قید کے بعد ضمانت پر ریا کیا تھا لیکن معاملے کے سماعت شروع ہونے میں پانچ سال کا وقت لگ گیا، 13جنوری2016کو ملزمین کے خلاف چارجیس فریم کئے گئے اور اس کے فوراً بعد دفاعی وکلاء کی عرضداشت پر18 جنوری سے ٹرائل شروع کردی گئی۔ منگلور کی خصوصی عدالت کے روبرو استغاثہ نے ملزمین کے خلاف گواہی دینے کے لئے 90گواہوں کو پیش کیا جس میں پولس افسران،تحقیقاتی افسران، فارینسک سائنس لیباریٹری کے اہل کار اور دیگر شامل ہیں۔

جمعیت علماء نے ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ وکرم ہیگڑے، ایڈوکیٹ شانتارام شیٹی اور ایڈوکیٹ نارائنا پجاری کو مقرر کیا تھا جنہوں نے سرکاری گواہوں سے جرح کی اور دوران حتمی بحث عدالت کو بتایا کہ کسی بھی شخص کو پناہ دینا کوئی جرم نہیں ہے اور نہ ہی کسی بھی تنظیم کا رکن ہونا جرم ہے نیز اس تعلق سے عدالت عظمی کی گائیڈلائنس موجود ہیں جس کی روشنی میں عدالت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا ملزمین نے پناہ دیکر کوئی جرم کیا ہے حالانکہ ملزمین کا اول دن سے یہ کہنا ہے کہ انہوں نے کسی بھی ایسے شخص کو پناہ دی ہی نہیں جس کا دہشت گردانہ کارروائیوں سے تعلق رہا ہو اور نہ ہی انڈین مجاہدین نامی تنظیم سے کبھی وابستہ تھے۔

Loading...

گلزار اعظمی نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت مہینہ میں پانچ دن لگاتار ہوتی تھی اور ہر پیشی پر سرکاری گواہوں کی موجودگی کو عدالت نے لازمی قرار دیا تھا جس کے بعد ہی ایک ریکاڑد مدت میں مقدمہ کی سماعت مکمل ہوگئی اور اب فیصلہ کا انتظار ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ملزمین نے مقدمہ کی سماعت شروع ہونے سے قبل جمعیت علماء ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی سے انہیں قانونی امداد فراہم کئے جانے کی درخواست کی تھی جس کے بعد چارج شیٹ اور دیگر عدالتی دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے بعد جمیعت علماء نے ملزمین کو قانونی امداد فراہم کئے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس مقدمہ سے تمام ملزمین باعزت بری ہوجائیں گے کیونکہ تحقیقاتی دستوں سے ملزمین کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم کیا تھا ور انہیں بغیر کسی ثبوت و شواہد کے انڈین مجاہدین تنظیم کا رکن بتایا تھا۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز