منگلور دہشت گردانہ کیس : چار مسلم نوجوان باعزت بری ، تین قصوروار قرار

Apr 10, 2017 05:14 PM IST | Updated on: Apr 10, 2017 05:15 PM IST

ممبئی: منگلور شہر کی ایک خصوصی عدالت نے ممنوعہ دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین کے رکن ہونے اور انڈین مجاہدین نامی تنظیم کے مبینہ بانیوں بھٹکل برادران کو آندھرا پردیش اور کرناٹک میں ہوئے بم دھماکوں کے ملزمین کو پناہ دینے کے معاملے میں 4مسلم نوجوانوں کو باعزت بری کئے جانے کا حکم جاری کیاجبکہ انہیں الزامات کے تحت گرفتار تین مسلم نوجوانوں کو عدالت نے قصور وار قراردیا ہے ۔ ان کی سزاؤں کا تعین 12 اپریل کو کیا جائے گا۔یہ اطلاع ممبئی میں ملزمین کو قانونی امدا د فراہم کرنے والی تنظیم جمعیت علما مہاراشٹر (ارشدمدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ ملزمین سید احمد نوشاد، احمد باوا ابوبکر اور فقیر احمد کو عدالت نے قصور وار ٹھہرایا ہے جبکہ محمد علی، جاوید علی، شبیر احمد اور محمد رفیق کو باعزت بری کردیا۔ گلزار اعظمی نے بتایا کہ ماہ اکتوبر2008میں ریاض بھٹکل اور دیگر انڈین مجاہدین تنظیم سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پناہ دینے نیز انڈین مجاہدین تنظیم سے وابستہ ہونے کے الزامات کے تحت منگلور پولس نے سید محمد نوشاد، احمد باوا، محمد علی، جاوید علی،، محمد رفیق ، فقیر احمد اور شبیر بھٹکل کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 120(بی), 121(اے), 122,123,153(اے) 122,420, 468,471 اوریو اے پی اے قانون کی دفعات 10, 11, 13,16,17,18,19,20,21 سمیت آرمس ایکٹ اور ایکسپلوزیو سبسٹنس کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا۔

منگلور دہشت گردانہ کیس : چار مسلم نوجوان باعزت بری ، تین قصوروار قرار

گلزار اعظمی نے کہا کہ اس معاملے کا سامنا کررہے سات ملزمین کو عدالت نے دو سالوں کی قید کے بعد ضمانت پر ریا کیا تھا لیکن معاملے کے سماعت شروع ہونے میں پانچ سال کا وقت لگ گیا، 13 جنوری2016کو ملزمین کے خلاف چارجز فریم کئے گئے اور اس کے فوراً بعد دفاعی وکلاء کی عرضداشت پر18 جنوری سے ٹرائل شروع کردی گئی۔ منگلور کی خصوصی عدالت کے روبرو استغاثہ نے ملزمین کے خلاف گواہی دینے کے لئے90گواہوں کو پیش کیا جس میں پولس افسران،تحقیقاتی افسران، فارینسک سائنس لیباریٹری کے اہل کار اور دیگر شامل ہیں۔

جمعیت علماء نے ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ وکرم ہیگڑے، ایڈوکیٹ شانتارام شیٹی اور ایڈوکیٹ نارائنا پجاری کو مقرر کیا تھا ،جنہوں نے سرکاری گواہوں سے جرح کی۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت مہینہ میں پانچ دن لگاتار ہوتی تھی اور ہر پیشی پر سرکاری گواہوں کی موجودگی کو عدالت نے لازمی قرار دیا تھا ،جس کے بعد ہی ایک ریکاڑد مدت میں مقدمہ کی سماعت مکمل ہوگئی اور آج عدالت نے اپنا فیصلہ صادر کردیا۔ انہو ں نے کہا کہ ملزمین نے مقدمہ کی سماعت شروع ہونے سے قبل جمعیت علما ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی سے انہیں قانونی امداد فراہم کئے جانے کی درخواست کی تھی، جس کے بعد چارج شیٹ اور دیگر عدالتی دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے بعد جمعیت علماء نے ملزمین کو قانونی امداد فراہم کئے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز