مراٹھا سماج کے اتحاد کے سامنے جھکی فڑنویس حکومت ، تعلیمی سطح پر اوبی سی طرز پر ریزرویشن دینے کا اعلان

Aug 09, 2017 07:56 PM IST | Updated on: Aug 09, 2017 07:56 PM IST

ممبئی : آج عروس البلاد ممبئی میں مہاراشٹر کے مراٹھاسماج نے تعلیم اور ملازمت میں ریزرویشن یعنی تحفظ سمیت متعدد مطالبات کی حمایت میں لاکھوں افراد کے سڑکوں پر اترنے کے پیش نظر شہری زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی اور مراٹھا مورچہ کا سب سے زیادہ اثر جنوبی اور جنوب وسطی ممبئی پر پڑا ہے،لیکن اس درمیان وزیراعلیٰ دیویندرفڑنویس نے ریاستی اسمبلی میں اعلان کیا کہ مراٹھوں کو تعلیمی سطح پر اوبی سی طرز پر ریزرویشن فراہم کیا جائے گا۔ اس سے قبل مراٹھا کرانتی کے نوجوانوں پر مشتمل ایک وفد نے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس سے ملاقات کی اور اپنے مطالبات پر مشتمل ایک میمورنڈم انہیں پیش کیا ۔جس کو تسلیم کرنے کے بعد فڑنویس نے ایوان میں اس کا اعلان کیا۔

مراٹھاسماج کے لوگ گزشتہ شب سے مہاراشٹر کے دورافتادہ علاقوں اور شہر وں سے یہاں پہنچنے لگے اور بدھ کی صبح بائیکلہ میں رانی باغ سے آزاد میدان کی جانب ان لوگوں نے مارچ شروع کیا ہے،مذکورہ مارچ میں ایک بڑی تعداد میں نوجوان لڑکی ۔لڑکوں کی ہے۔ جن میں بہت سی خواتین بھی ہیں،جنہیں مورقہ میں سب سے آگے رکھا گیا ہے۔اس احتجاج کو ’مکت مراٹھا مورچہ‘کا نام دیا گیا ہے۔شہر اور ریاست کی مسلم سماجی تنظیموں اور این جی او نے مہاراشٹر کرانتی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور مسلم اکثریتی علاقے جے جے جنکشن اور بائیکلہ میں جلوس کے شرکا ء کے لیے پانی تقسیم کیا ،جگہ جگہ اسٹال لگائے گئے ہیں اور مستان تلاب علاقے کے شہریوں کو پانی اور پھل سے ان کا استقبال کیا اور مراٹھاسماج کی مہم کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ مراٹھا مورچہ کے راستوں کے ٹریفک کو دیگر متبادل راستوں کی جانب موڑدیا گیا ہے جس کی وجہ سے جگہ جگہ جام لگ گیا ہے۔ مارچ کے منتظمین مراٹھا کرانتی سنگھٹن کا دعوی ہے کہ اس مارچ میں ملک بھر سے لاکھوں افراد شامل ہوں گے اور یہ تعداد 8-10لاکھ تک تجاوز کرجائے گی ۔

مراٹھا سماج کے اتحاد کے سامنے جھکی فڑنویس حکومت ، تعلیمی سطح پر اوبی سی طرز پر ریزرویشن دینے کا اعلان

واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر۔اکتوبر میں، مہاراشٹر کے تمام اضلاع میں مراٹھاؤں نے ایسے جلوس نکالے اور اس دوران امن وامان برقراررہا۔ مراٹھاسماج کا مطالبہ ہے کہ فرقہ کو تعلیم اور ملازمتوں میں ریزرویشن دیا جائے اور پچھلے سال احمدنگر کے کوپری گاؤں میں ایک مراٹھا لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کے ملزمین کو پھانسی کی سزاکا مطالبہ کررہے ہیں۔غائب ہوئی تھی جوکہ احتجاج کے بعد غائب ہوگئی اور پھر بعد میں اس کی نعش ایک فارم ہاؤس میں پائی گئی ، جانچ سے پتہ چلا کہ اس کی عصمت دری کی گئی ہے۔ کوپری کیس کے الزام میں دلت فرقے کے نوجوان گرفتار کئے گئے ۔

مراٹھاکرانتی سنگھٹن اس تحریک کے پس پردہ ہے، لیکن اس طرح کی بڑی تحریک کا کوئی چہرہ نہیں ہے، وہاں کوئی رہنما نہیں ہے۔ ہریانہ کے جاٹ تحریک کے برعکس، مراٹھا تحریک اب تک غیر متشدد رہی ہے۔ آج کے مراٹھا مارچ بھی ایک پرامن مارچ ہے اور اسے ممبئی کا سب سے بڑا خاموش مارچ کہا جا رہا ہے۔اس دوران کو ئی نعرے بازی نہیں ہورہی ہے اور نہ ہی تقریریں کی جارہی ہیں۔آزادمیدان میں ایک جم غفیر پہلے ہی موجودہے اور جنوبی ممبئی میں ہر طرف بھگوا جھنڈے اور پگڑی نظرآرہی ہے۔

واضح رہے کہ مہاراشٹر کی مجموعی آبادی میں33 فیصدمراٹھا ہیں۔ 2014 میں کانگریس۔این سی پی حکومت نے فرقے کو 16 فیصد ریزرویشن دینے کا اعلان کیا تھا، لیکن بمبئی ہائی کورٹ نے اس پر پابندی لگا دی کیونکہ ان کا شمار پچھلے طبقات میں نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ مہاراشٹر میں مراٹھا برادری سیاسی طور پر با اثر ہے۔ کوئی سیاسی جماعت نہیں چاہتی ہے کہ وہ ان کے استحصال کو قبول کرے۔ لہٰذا اس تحریک سے نمٹنے کے لئے ریاست کی دیویندر فڑنویس حکومت کے لئے ایک چیلنج بن گیا ہے۔ دراصل مسلمانوں کو بھی 5فیصد ریزرویشن دیا گیا تھا اور عدالت نے تعلیمی سطح پر اسے بحال رکھا مگر موجودہ فڑنویس سرکار نے اسے مستردکردیا اور معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز