خواتین کارپوریٹرس کا انوکھا احتجاج، انجینئروں کے کیبن پرکیں ’ لا پتہ‘ کی پرچیاں چسپاں

Jul 20, 2017 06:49 PM IST | Updated on: Jul 20, 2017 06:49 PM IST

اورنگ آباد۔  ایم آئی ایم کی خواتین کارپوریٹرس نے اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن میں انفرادی انداز میں اپنا احتجاج درج کروایا ۔ ان خواتین کارپوریٹرس نے ایگزیکیٹو انجینیئر اور سٹی انجینیئر کے  کیبن اور کرسی پر لاپتہ کی پرچیاں چسپاں کردیں۔ ایم آئی ایم کا الزام ہے کہ بی جے پی اقتدار والےعلاقوں میں کام ہو رہا ہے جبکہ مسلم اکثریتی علاقوں کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کے فقدان، سڑکوں کی مرمت، ملبے کو ہٹا نے جیسے مطالبات کی یکسوئی نہ ہونے پرایم آئی ایم کی خواتین کارپوریٹرس نے ناصر صدیقی کی قیادت میں  میونسپل کارپوریشن میں انوکھے اندازمیں احتجاج درج کروایا ۔ ان خواتین کارپوریٹرس نے سٹی انجینئر سید سکندر علی کے  کیبین کو مقفل پا کر دروازے پر سٹی انجینئر لاپتہ کی پرچی چسپاں کردیں۔  اسی طرح ایگزیکیٹو انجینیئر افسر صدیقی کی کرسی پر لاوارث کارپوریشن  کے لاپرواہ افسر کی پرچی  چسپاں کردی، ان  خواتین کارپوریٹرس کا الزام ہے کہ کارپوریشن  کے اعلی افسران مسلم اکثریتی علاقوں کو دانستہ طور پر نظر انداز کررہے ہیں ۔

ایم آئی ایم کارپوریٹرس کا کہنا ہے کہ قدیم شہر کی مسلم اکثریتی بستیوں میں ترقیاتی کاموں کا ٹھیکہ کھلارے کنسٹرکشن کو دیا گیا ہے ۔ کئی علاقوں میں کھدائی ہوچکی ہے لیکن زیادہ تر کام ادھورے پڑے ہیں ۔ ملبہ راستوں پر پڑا ہوا ہے جس سے راہ گیروں کو دشواریاں ہورہی ہیں ۔  بارش کی وجہ سے حادثات رونما ہو رہے ہیں ۔  جبکہ میونسپل حکام  اس جانب توجہ دینے کو تیار نہیں ۔ ایم آئی ایم  نے میونسپل کارپوریشن کے اعلی حکام پرجانبداری کا بھی الزام عائد کیا ہے ۔ اورنگ آباد شہر میں فی الحال ستر سے پچھتر پروجیکٹ پرکام  چل رہا ہے لیکن زیادہ تر پروجیکٹ ادھورے پڑے ہوئے ہیں ۔ ایسے میں ایم آئی ایم  کی خواتین کارپوریٹرس کا گاندھی گیری کے انداز میں کیا گیا احتجاج کتنا کارگر ہوتا ہے یہ دیکھنا ہوگا۔

خواتین کارپوریٹرس کا انوکھا احتجاج، انجینئروں کے کیبن  پرکیں ’ لا پتہ‘ کی پرچیاں چسپاں

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز