نئی حج پالیسی : مسلم دانشوروں نے کچھ اس طرح کیا اپنے رد عمل کا اظہار

Oct 09, 2017 08:37 PM IST | Updated on: Oct 09, 2017 08:37 PM IST

ممبئی ۔ گزشتہ ہفتہ کے روز مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے 2018کے لیے نئی حج پالیسی کا اعلان کیا ،جس کی کئی سفارشات پر سخت ناراضگی کا اظہار کرنے کے باوجود عام طورپر اس کا خیر مقدم کیا جارہا ہے۔حالانکہ حکومت کا کہنا ہے کہ عازمین حج کو سہولیات فراہم کرانے کے لیے کئی اہم اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،تاکہ حجاج کرام کے لیے زیادہ سے زیادہ راحت کا سامان کیا جاسکے ،اس نئی حج پالیسی کا ویسے توسابق چیف ایکزیکٹیو افسر اور سکریٹری شبیہ احمد نے خیر مقدم کیا ہے  لیکن محرم کے مسئلہ ،70سالہ کے درخواست گزار کورعایت سے محروم کرنے ،مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہائش کے مسئلہ ،ٹورآپریٹرز کو زیادہ کوٹہ کے فیصلوں پر انہوں نے اعتراض کیا ہے۔

واضح رہے کہ شبیہ احمد پہلے حج کمیٹی کو ایک خود مختار ادارہ بنانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محرم کی شرط اور70سال کی عمر کے عازم حج کو قرعہ اندازی میں شامل کرنے سے بلاوجہ تنازع پیدا کردیا گیا ہے ،ان کو چھیڑنے کی ضرورت نہیں تھی،بلکہ ان کو چھونے سے احتراز کیا جانا چاہئے تھا۔ جبکہ ٹورآپریٹرز کاکوٹہ بڑھائے جانے پر وہ سخت ناراض ہیں اور چاہتے ہیں ،حجاج کرام کو رعایت دینے کے بارے میں ان پر اصول وضوابط نافذ کیے جائیں ۔اگر حج کمیٹی پونے دو۔دولاکھ روپے حج کی سہولیات فراہم کررہی تو ان ٹورکمپنیوں پر پابندی عائد کی جائے کہ وہ ڈھائی لاکھ سے زائد رقم نہیں وصول کرے ۔

نئی حج پالیسی : مسلم دانشوروں نے کچھ اس طرح کیا اپنے رد عمل کا اظہار

عرفات میں واقع مسجد النمرہ: فائل فوٹو۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور برصغیر میں عام طورپر اپنی سبکدوشی اور بچوں کی شادی بیاہ سے فارغ ہونے کے بعد ہی 65-70کی عمر کے درمیان ہی حج کا فرض اداکرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے ،اس لیے ایک فارمولہ کے طورپر ایک کوٹہ مقررکیا جانا چاہئے تھا اور ان دونوں متنازع معاملات کو چھونا نہیں چاہئے تھا۔

رہائش کے بارے میں کوئی فارمولہ اور حکمت عملی نہیں پیش کی ہے کہ فلاں بنیاد پر رہائش کرایے پر لی جائیں گی ،جبکہ سب کو عزیزیہ میں قیام کرانے کے فیصلہ سے بھی شبیہ احمد متفق نہیں ہیں۔ شبیہ احمد کے مطابق سب سے اہم مسئلہ سعودی عرب میں رہائش کا ہے ۔اس بارے میں کوئی واضح حکمت عملی نہیں پیش کی گئی ہے۔ سب کو عزیزیہ میں دینا ایک غیر فطری عمل ہوگا اور ریویو کمیٹی نے بھی ایک سال کی مدت کے لیے رہائش کا معاملہ پیش کیا جبکہ حج کا فرضیہ کو ہمیشہ اداکیا جائے گا ،اس لیے حج کا انتظام پختہ بنیاد پر اور طویل مدتی بنیاد پر ہونا چاہئے ۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ جائزہ کمیٹی نے ٹورآپریز کے حق میں کام کیا ہے اور انہیں زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا ہے اور ان کے کوٹہ میں بھی اضافہ کردیا جوکہ ناقابل قبول عمل ہے۔شبیہ احمد نے کہا کہ ٹورآپریٹرز کا معاملہ حج کمیٹی کے انتظامات میں ایک منفی نقطہ ہے اور آہستہ آہستہ انہیں ختم کرنے کی کوشش ہونی چاہئے ،بلکہ یہ حیرت انگیز امر ہے کہ ان کے کوٹہ کو بڑھا دیا گیا ،جنہیں 100نشستیں دی جاتی تھیں ،ان کو اب دوسوسیٹ دے دی گئی ہیں۔ان پر کوئی قدغن نہیں لگایا جارہا ہے بلکہ انہیں سہولت دی جارہی ہیں۔

سابق ریاستی وزیر عارف نسیم خان نے محرم اور 70سال کے حجاج کے بارے میں نئی حج پالیسی کے فیصلہ پر سخت اعتراض کیا ہے اور اسے شریعت مطہرہ میں مداخلت ہی نہیں بلکہ حجاج کرام سے اعلانیہ دھوکہ قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جائزہ کمیٹی نے جو سفارشات کی ہیں وہ شریعت میں صریح مداخلت ہے اور محرم وقربانی میں مراعات اسلامی احکام سے تعلق رکھیتے ہیں ،اسے کسی کمیٹی کی سفارش کے ذریعے یا حکومت کے نظریے کے مطابق تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے۔

مولانا لقمان ندوی نے کہا کہ اسلام میں بغیر محرم حج پر جانے کی کوئی اجازت نہیں ہے،نئی پالیسی اسلامی تعلیمات اور شریعت کے خلاف ہیں۔ حج ایک اہم ترین فریضہ ہے اور ایک صحیح کام کیلیے غلط طریقہ کاراپنانا صحیح عمل نہیں ہوسکتا ہے۔ وہیں، مولانا عبدالجبار ماہرالقادری نے کہا کہ نئی پالیسی سراسر اسلام میں مداخلت ہے اور اسلام نے ہمیشہ شرم وحیا کو ملحوظ رکھا ہے اور اسی کی وجہ سے کتنی برائیوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز