اگر مسلم سماج نے تین طلاق کے عمل کو نہیں بدلا تو حکومت لا سکتی ہے قانون : وینکیا نائیڈو

May 21, 2017 01:39 PM IST | Updated on: May 21, 2017 01:39 PM IST

امراوتی: مسلم سماج اگر تین طلاق کے عمل کو 'تبدیل کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو حکومت قدم اٹھا سکتی ہے اور اس کو روکنے کرنے کے لئے قانون بنا سکتی ہے۔ نائیڈو نے یہاں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کو دیکھنا سماج پر منحصر کرتا ہے اور اچھا ہو گا اگر (مسلم) سماج خود ہی اس رواج کو بدل دے، ورنہ ایسی صورتحال میں حکومت کو قانون (تین طلاق پر پابندی ) لانا پڑےگا۔

مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ یہ کسی کے ذاتی معاملات میں مداخلت نہیں ہے ، بلکہ خواتین کے لئے انصاف کا سوال ہے۔ تمام خواتین کو مساوی حقوق ہونا چاہئے۔ قانون کے سامنے مساوات یہ اہم مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو سماج میں بھی بچوں کی شادی، ستی اور جہیز جیسی بری روایتوں کو ختم کرنے کے لئے قانون بنائے گئے ہیں۔

اگر مسلم سماج نے تین طلاق کے عمل کو نہیں بدلا تو حکومت لا سکتی ہے قانون : وینکیا نائیڈو

مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندو سماج نے بچوں کی شادی پر بحث کی اور اسے ختم کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں قانون منظور کیا گیا۔ دوسرا ہے ستی ہے ، جس قدیم دور میں شوہر کی موت کے بعد بیوی موت کو گلے لگا لیتی تھی، اسے ہندو سماج نے ہی قانون بنا کر ختم کیا، تیسرا جہیز کا معاملہ ہے، جہیز کے خاتمہ کیلئے قانون منظور کیا گیا اور ہندو سماج نے اسے قبول کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب لگا کہ اس طرح کی پریکٹس معاشرے کی بھلائی کے خلاف ہے ، تو ہندو سماج نے ان پر تبادلہ خیال کیا اور ان میں اصلاح کیا ، کچھ اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور اس سمت میں کوشش کی جانے چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز