سول کورٹ احمدآباد میں مفتی عبدالقیوم کی ہرجانہ کی عرضداشت سماعت کے لئے منظور

Apr 01, 2017 06:58 PM IST | Updated on: Apr 01, 2017 11:25 PM IST

نئی دہلی ۔ اکشر دھام مندر احمدآباد میں 2002میں ہوئے بم دھماکوں کے معاملے میں احمد آباد کی خصوصی پوٹا عدالت اور گجرات ہائی کورٹ سے پھانسی کی سزا پانے کے بعد سپریم کورٹ سے بے قصور ثابت ہونے کے بعد با عزت بری ہوئے مفتی عبدالقیوم کے ذریعے حکومت گجرات اور خاطی پولیس افسران کے خلاف دائر پانچ کروڑ دو لاکھ پانچ ہزار روپے کے معاوضہ کا دعویٰ کرنے والی عرضداشت کو سول کورٹ احمدآباد نے سماعت کے لئے منظور کرلیا ہے۔ مفتی عبدالقیوم نے یہ عرضداشت سپریم کورٹ کی ہدایت اورجمعیۃ علما ہند کی وساطت سے داخل کی ہے۔

واضح رہے کہ 2002میں اکشردھام مندر احمد آباد( گجرات )میں بم دھماکہ کے سلسلے میں 2003 میں گرفتار کئے گئے مفتی عبد القیوم کو پہلے احمد آباد پوٹا عدالت اور پھر اس کے بعد گجرات ہائی کورٹ نے قصور وار قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزاسنائی تھی ۔ نچلی عدالت اور ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس کی پیروی جمعیۃ علما ہند نے کی اور آخرکار2014 میں عبدالقیوم سپریم کورٹ سے بے قصور ثابت ہو کر با عزت بری ہوگئے ۔ مفتی عبد القیوم اور ان کے دیگر ساتھیوں کو 11؍ سال تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھنے، مارنے پیٹنے اور دیگر ناقابل برداشت اذیتیں پہچانے کے تعلق سے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ملزمین بے گناہ ہیں اور انہیں جان بوجھ کر اس مقدمہ میں پھنسایا گیا ہے ۔ جمعیتہ کی ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ سے بری ہوجانے پرمفتی قیوم نے اس وقت کے ڈپٹی پولیس کمشنر ڈی جی ونجارا ودیگر خاطی افسران کے خلاف قانونی کاروائی اور معاوضہ ادا کئے جانے کی سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی تھی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے انھیں ہدایت دی تھی کہ وہ اس معاملے کو احمد آباد کی عدالت میں پیش کریں لہٰذا گزشتہ دنوں جمعیۃ علماء ہند کی وساطت سے سول کورٹ احمد آباد میں ایک عرضداشت داخل کی گئی تھی جس میں ڈی جی ونجارا، اے سی پی کرائم برانچ احمد آباد جی ایل سنگھل ،پولیس انسپکٹر آر ڈی پٹیل ،پولیس انسپکٹر وی ڈی ونار اور حکومت گجرات کے خلاف پانچ کروڑ دو لاکھ پانچ ہزار روپئے ہرجانہ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ سول عدالت احمدآباد نے اس عرضداشت کو سماعت کے لئے منظور کرلیا ہے۔

سول کورٹ احمدآباد میں مفتی عبدالقیوم کی ہرجانہ کی عرضداشت سماعت کے لئے منظور

مفتی عبد القیوم، فائل فوٹو: فوٹو کریڈٹ این ڈی ٹی وی ڈاٹ کام

واضح رہے کہ مفتی عبد القیوم اوراور ان کے دیگر ساتھیوں کی رہائی اسی طرح دیگر عدالتوں سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت بے گناہ مسلمانوں کی باعزت رہائی کے بعد صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی یہ خواہش تھی کہ اس طرح سے باعزت بری ہونے والے ملزمان عدالتوں میں ہرجانہ کا دعویٰ پیش کریں تاکہ بے گناہ انسانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے والوں کو عبرت ناک سزا مل سکے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات پر روک لگ سکے ۔ اس سلسلے میں جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس معاملے میں بھی عدلیہ سے انہیں انصاف ضرور ملے گا۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اگر ایک بار کسی خاطی پولس افسر کو سزا ہوگئی اور اس سے ہرجانہ وصول کر کے بری ہونے والے شخص کومعاوضہ اداکیا گیا تو مستقبل میں کوئی پولیس افسر کسی بے قصور شخص کو دہشت گردی کے فرضی معاملات میں پھنسانے سے پہلے دس بار ضرور سوچے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز