سمندری راستے سے حج سفر دوبارہ شروع کرانے پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے : مختار عباس نقوی

Apr 14, 2017 05:14 PM IST | Updated on: Apr 14, 2017 05:14 PM IST

ممبئی: اقلیتی امور اور پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) مسٹر مختار عباس نقوی نے آج یہاں کہا کہ آنے والے دنوں میں سمندری راستے سے حج سفر دوبارہ شروع کرانے کیلئے سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں جہازرانی وزارت سے بات چیت چلی رہی ہے۔ ممبئی میں حج ہاؤس میں حج 2017 کے سلسلے میں منعقد کئے جا رہے ایک تربیتی پروگرام کے دوران مسٹر نقوی نے کہا کہ’’ حج پالیسی 2018 ‘‘طے کرنے کے لئے قائم اعلی سطحی کمیٹی مسافروں کو پانی کے جہاز سے دوبارہ سعودی عرب کے جدہ شہر بھیجنے کےمتبادل پر غور کر رہی ہے۔

مسٹر نقوی نے کہا کہ حکومت سمندری راستے سمیت تمام متبادلوں پر غور کر رہی ہے۔ اگر چیزیں طے ہوتی ہیں تو یہ ایک انقلابی قدم اور تمام حاجیوں کے مفاد میں ہوگا۔ ممبئی سے سمندری راستے کے ذریعے جدہ جانے کا سلسلہ 1995 میں رک گیا تھا۔

سمندری راستے سے حج سفر دوبارہ شروع کرانے پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے : مختار عباس نقوی

حج مسافروں کو سمندری جہاز سے بھیجنے پر سفر کا خرچ قریب نصف ہو جائے گا۔ موجودہ وقت میں ممبئی اور دہلی سمیت 21 مقامات سے حج کی پروازیں جدہ کے لئے جاتی ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی اور سہولتوں پر مشتمل پانی کے جہاز ایک وقت میں چار سے پانچ ہزار لوگوں کو لے جانے کے قابل ہیں۔ ممبئی اور جدہ کے درمیان 2،300 سمندری میل کی ایک طرف کی دوری صرف دو تین دنوں میں مکمل کر سکتے ہیں۔ جبکہ پہلے پرانے جہاز سے 12 سے 15 دن لگتے تھے۔

مسٹر نقوی نے کہا کہ اعلی سطحی کمیٹی اپنی رپورٹ جلد ہی سونپ دے گی۔ نئی حج پالیسی کا مقصد حج کے مکمل عمل کو آسان اور شفاف بنانا ہے. اس نئی پالیسی میں حج مسافروں کے لئے مختلف سہولتوں کا پورا خیال رکھا جائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز