رواداری ہندوستان کی ثقافت : مختارعباس نقوی ، تشدد کو کثرت میں وحدت کی طاقت کو کمزور کرنے کی بتایا سازش

Sep 07, 2017 08:30 PM IST | Updated on: Sep 07, 2017 08:30 PM IST

ممبئی: اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ رواداری ہندستان کی ثقافت اور عزم رہی ہے اور یہ ہماری آئینی ذمہ داری ہے کہ ہم اس ثقافت کا تحفظ کریں اور اسے مستحکم بنائیں۔ ممبئی کے باندرہ ریلوے اسٹیشن کے پاس ‘‘نئے ہندستان۔ ہم کرکے رہیں گے’’ نمائش اور ثقافتی پروگرام کا افتتااح کرتے ہوئے مسٹر نقوی نے کہا کہ کسی بھی طرح کا تشدد اور انارکی ہندستان کے سماجی ہم آہنگی کے مضبوط تانے بانے اور کثرت میں وحدت کی طاقت کو کمزور کرنے کی ایک ساز ش ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری آئینی ذمہ داری ہے کہ ہم اس اتحاد کو بچائیں اور اس طرح کی برائی کی طاقتوں کو شکست دیں جو ہماری سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

مسٹر نقوی نے کہا کہ نیو انڈیا ویزن کے تحت وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت سماج کے اس غریب طبقے کی فلاح و بہبود اور انہیں بااختیار بنانے کیلئے پورے عزم کے ساتھ کام کررہی ہے جو آزادی کے بعد بھی غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے سماج کے اس طبقے کو دھیان میں رکھتے ہوئے تمام فلاحی اسکیموں پرکام کیا ہے۔ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے جس نئے ہندستان کی تعمیر کا عزم کیا ہے اسے پورا کرنے کے لئے ہر طبقے کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔

رواداری ہندوستان کی ثقافت : مختارعباس نقوی ، تشدد کو کثرت میں وحدت کی طاقت کو کمزور کرنے کی بتایا سازش

انہوں نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے نئے ہندستان کی اپیل کی ہے اور اس عہد کو پورا کرنے کیلئے سماج کے ہر طبقے کو مل کر کام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار سنکلپ سے سدھی کی مہم میں ہر ایک کو شامل کرنے کی بھر پور کوشش کررہی ہے تاکہ ہندستان میں بدعنوانی ، غربت ، گندگی اور فرقہ پرستی ، دہشت گردی اور ذات پات کی لعنت سے آزاد کرایا جاسکے۔ ہم نے 2022 تک ایک نیا ہندستان بنانے کا عزم کیا ہے۔

مسٹر نقوی نے کہا کہ اس مقصد کے ساتھ پارلیمانی امور کی وزارت ملک بھر کے 39 مقامات پر ایک فوٹو نمائش نیا ہندستان۔ ہم کرکے رہیں گے’’ کا اہتمام کررہی ہے۔ اس نمائش کا مقصد اس مہم کوفروغ دینا ہے جو نئے ہندستان کیلئے وزیراعظم نریندر مودی نے شروع کی ہے۔ ان نمائشوں کا فوکس 1857 سے 1947 تک کی ہندستان کی آزادی کی تحریک پر مرکوز رہیگا جن میں برطانوی راج سے آزادی حاصل کرنے کے لئے شروع کی گئیں مختلف سرگرمیوں کو اجاگر کیا جائے گا۔ ان سرگرمیوں اور تحریکوں میں 1857 کی پہلی آزادی کی جنگ ، چمپارن ستیہ گرہ ، عدم تعاون کی تحریک ،ڈانڈی یاترا ہندستان چھوڑو تحریک شامل ہیں۔

اس کے علاوہ نمائش میں 1942 سے 1947 تک ہوئے پانچ سال کی مدت کے بارے میں بتایا جائے گا کہ کس طرح انگریزی حکومت سے آزادی حاصل کرنے کی لڑائی میں پورے ملک میں تبدیلی آئی تھی۔ پروگرام میں تصویر کے ذریعہ سے آزادی سے پہلے کے ہندستان کی جدوجہد اوروزیراعظم نریندر مودی کے ‘‘نئے ہندستان’’ کے عہد کے سبھی پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے گا۔ اس میں مرکزی سرکار کی فلاحی اسکیموں کی بھی جانکاری دی جائے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز