اچھے سلوک کی وجہ سے 2003 بم دھماکوں کے ملزم ثاقب ناچن رہا ، پولیس نے ذہین ترین انسان قرار دیا

Nov 22, 2017 11:23 PM IST | Updated on: Nov 22, 2017 11:23 PM IST

ممبئی: عروس البلاد میں ممبئی سینٹرل ،ولے پارلے اور ملنڈ میں 2002اور2003میں ہونے والے بم دھماکوں کے مجرم ثاقب ناچن کوجیل میں اچھے برتاؤ کی وجہ سے آج جیل سے رہا کردیا گیا ۔ان تین بم دھماکوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔انہیں دھماکوں کی سازش رچانے کے الزام میں دس سال کی سزاکا حکم دیا گیا تھا ،حالانکہ استغاثہ نے عمر قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ جیل میں قیدی نمبر C-6208ثاقب ناچن جیل میں سب سے زیادہ ڈسپلن اور فرمابردارقیدی سمجھے جاتے تھے۔انہیں ان کی اچھے سلوک اور بہتر ڈسپلن کے سبب پانچ مہینے اور 13دن قبل رہائی نصیب ہوئی ہے۔57 سالہ ناچن ایک سال آٹھ مہینے جیل میں رہے اور اس سے قبل مارچ 2016تک زیر سماعت قیدی کے طورپر جیل میں گزارے ،ناچن پابندی شدہ ایس آئی ایم کے سابق سکریٹری تھے۔وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ قیدی تھے جوکہ دہشت گردانہ حملہ میں ملوث پائے گئے۔

اچھے سلوک کی وجہ سے 2003 بم دھماکوں کے ملزم ثاقب ناچن رہا ، پولیس نے ذہین ترین انسان قرار دیا

ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ناچن ایم بی اے اور انجنیئرنگ کے طالبعلم بھی تھے۔انہیں پانچ ماہ 13دن قبل رہائی دے دی گئی ہے۔ان کا تعلق ممبئی سے 65کلومیٹر دور بھیونڈی کے پڑگھہ گاؤں سے ہے جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم رہائش پذیر ہیں اور کئی تعلیم یافتہ نوجوان اس دیہات کے دہشت گردی میں ملوث پائے گئے ہیں ،ناچن کے ساتھ ساتھ مزمل انصاری بی کام اور انجنیئر ہیں جبکہ عاتف ملا ایم بی اے ہیں ۔ڈاکٹر واحد انصاری ایک یونانی ڈاکٹر بتائے گئے ہیں اور اس پر الزام ہے کہ کلنک میں بم بنانے کی اجازت دی تھی۔

ثاقب ناچن کے بارے میں تحقیقاتی افسران کا خیال ہے کہ وہ ایک ذہین اور سنجیدہ انسان تھا ،لیکن دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوگیا اور اسلحہ وبم کے ساتھ پکڑا گیا۔ناچن اپنے علاقے میں کافی مقبول ہے اور ایک بار اس کی گرفتاری کے لیے کئی پولیس اہلکاروں کو خالی ہاتھ واپس آنا پڑا تھا۔پڑگھ کا آبادی سات ہزار ہے اور 95 فیصد کوکنی مسلم یہاں آباد ہیں اور ہر ایک دہشت گردانہ حملے کے بعد یہاں پولیس کی جانچ پڑتال ہوتی ہے،اکتوبر 2001میں ایس آئی ایم پر پابندی کے وقت یہاں تنظیم کا ایک چھوٹا دفتر تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز