جالنہ فساد میں ماخوذ 20 مسلم نوجوانوں کو سزا کے خلاف داخل اپیل سماعت کے لئے منظور

Jun 22, 2017 09:10 PM IST | Updated on: Jun 22, 2017 09:10 PM IST

ممبئی: گذشتہ دنوں جالنہ سیشن عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا پانے والے ایک مسلم نوجوان کی ضمانت پر رہائی اور فیصلہ کے خلاف داخل اپیل کو ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے آج سماعت کے لیئے منظور کرلیا ہے۔ اسی طرح دیگر 19 مسلم نوجوانوں کی اپیلیں بھی سماعت کے لیئے منظور ہوگئیں جنہیں دس سال سے لیکر ایک سال قید بامشقت کی سزائیں نچلی عدالت نے گذشتہ دنوں سنائی تھیں ۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اخبارنویسوں کو دی ۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ سال 2008کے وسط میں مراٹھواڑہ کے جالنہ نامی ضلع کے شیولی قصبہ میں رو نما ہونے والے فرقہ وارانہ فساد کے معاملے میں گذشتہ دنوں جالنہ سیشن عدالت نے ۔20مسلمانوں کو مجرم قرار دیتے ہوئے ایک شخص کو عمر قید ، تین کو دس دس سال کی سزائیں اور بقیہ 16؍ کو ایک سال قید بامشقت کی سزائیں سنائی تھی۔

جالنہ فساد میں ماخوذ 20 مسلم نوجوانوں کو سزا کے خلاف داخل اپیل سماعت کے لئے منظور

علامتی تصویر

گلزار اعظمی نے کہا کہ فیصلہ کی نقول اور دیگر دستاویزات موصول ہوتے ہی ایڈوکیٹ خضر پٹیل نے تمام ملزمین کے لیئے تین علیحدہ اپیلیں ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ میں داخل کردی تھی جس پر دو رکنی بینچ کے جسٹس آر ایم بورڈے اور جسٹس اے ایم دھاؤ لے نے سماعت کی اور عرضداشتوں کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے نچلی عدالت کے ریکارڈ طلب کرنے کے ساتھ ساتھ استغاثہ کو نوٹس بھی جاری کیا ۔

سینئر ایڈوکیٹ راجندر دیشمکھ اور ایڈوکیٹ خضر پٹیل نے دو رکنی بینچ کو معاملے کی پیچیدگی سے آگا کرتے ہوئے جیل میں مقید چا ر ملزمین کی ضمانت عرضداشت پر جلد از جلد سماعت کیئے جانے کی گذارش کی جس پر دو رکنی بینچ نے انہیں یقین دلایا کہ نچلی عدالت کا ریکارڈ ہائی کورٹ پہنچنے کے بعد ضمانت عرضداشت پر سماعت کی جائے کی نیز ایک سال کی سزاء پانے والے 16 مسلم نوجوانوں کی سزاؤں کو فوری طور پر معطل کیا جاتا ہے۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ ایڈوکیٹ خضر پٹیل نے عمر قید کی سزا پانے والے شیخ خواجہ شبیر قریشی کے لیئے نچلی عدالت سے ملی سزاء کے خلاف اپیل داخل کرتے ہوئے ضمانت عرضداشت بھی داخل کی ہے ، اسی طرح دس سال قید بامشقت کی سزاء پانے والے تین مسلم نواجوانوں شیخ یوسف شیخ ابراہیم، شیخ ذولفقار شیخ مناف اور شیخ تسلیم شیخ رسید کے لیئے ضمانت عرضداشت اور نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل داخل کی ہے جسے سماعت کے لیئے قبول کرلیا گیا ہے ۔

گلزار اعظمی نے مزید بتایا کہ ایڈوکیٹ خضر پٹیل نے ایک سال قید با مشقت کی سزا پانے والے 16 مسلم نوجوانوں کی اپیل بھی داخل کی جن کے نام شیخ عظیم شبیر قریشی، آغا ہ خان یاسین خان پٹھان، شیخ بابو شیخ شبیر قریشی، شیخ صادق شیخ غنی، خالد امیر الدین قریشی ، ضمیر الدین امیر الدین قاضی ، شیخ جبار شیخ داؤد، شیخ محبوب پیر محمد، ابراہیم خان یاسین خان پٹھان ، الیاس خان احمد خان پٹھان ، شیخ سعید شیخ ملنگ پٹیل ، عبدالرشید عبدالعزیز انصاری ، شبیر رزاق قریشی ، شیخ رشید شیخ لعل ، شیخ یونس شیخ لعل میاں تمبولی ، شیخ غوث شیخ بابو لعل قریشی ہیں ۔

واضح رہے کہ 2008 میں شیولی نامی شہر میں اس وقت ہندو مسلم فساد رونما ہوا تھا جب اکثریتی فرقہ کی جانب سے ’’مندر وہیں بنائیں گے‘‘ نامی گانا بجایا جارہا تھا جس کے بعد فساد برپا ہوگیا جس میں مسلمانون کی املاک کو زبردست نقصان پہنچایا گیا تھا اور دوران فساد ایک غیر مسلم کی موت واقع ہوگئی تھی جس کے بعد تعزیرات ہند کی دفعات 436 اور 302 کے تحت 34 مسلم نوجوانوں کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا لیکن مقدمہ سماعت کے بعد جالنہ سیشن عدالت نے 12 مسلم نوجوانوں کو بے قصور پایا تھا جبکہ 20 کو قتل اور دیگر الزامات کے تحت قصور وار ٹہراتے ہوئے انہیں عمر قیدسے لیکر ایک سال تک کی سزائیں تجویز کیں تھیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز