حوصلہ کو سلام ! یہاں برقعہ پوش مسلم خواتین دن میں کرتی ہیں گھریلو کام اور رات میں بن جاتی ہیں ایپ ٹیکسی ڈرائیور

عروس البلاد ممبئی کے کئی رنگ وروپ ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ خوابوں کا شہر کہے جانے ممبئی میں نصف شب کے بعد ایسی ٹیکسی ڈرائیور کسی مسافر کومل جائے جوبرقعہ پوش ہو اور شاید کسی کویقین نہ ہولیکن اس کو تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ مسلم برقعہ پوش خاتون اپنی سواری کو بحفاظت منزل تک پہنچاتی ہیں۔

Dec 17, 2017 07:28 PM IST | Updated on: Dec 17, 2017 07:28 PM IST

ممبئی: عروس البلاد ممبئی کے کئی رنگ وروپ ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ خوابوں کا شہر کہے جانے ممبئی میں نصف شب کے بعد ایسی ٹیکسی ڈرائیور کسی مسافر کومل جائے جوبرقعہ پوش ہو اور شاید کسی کویقین نہ ہولیکن اس کو تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ مسلم برقعہ پوش خاتون اپنی سواری کو بحفاظت منزل تک پہنچاتی ہیں۔ ایک انگریزی روزنامہ کے مطابق متعدد خواتین ٹیکسی ڈرائیوردن میں گھریلو فرائض بخوبی انجام دیتی ہیں اور رات میں روزی روٹی کمانے کے لیے آن لائن ایپ والی ٹیکسیاں چلاتی ہیں جن میں مسلم خاتون بھی شامل ہیں۔ لکھنؤ میں پرورش پانے والی 30سالہ رضوانہ شیخ ایک تاجر سے شادی کے بعد ممبئی منتقل ہوگئیں اوراب وہ دن میں ایک ماں کا فرض اداکرتی ہیں اور رات میں اولا کی ڈرائیوربن جاتی ہیں اور انہیں ڈرائیور کی نشست پر دیکھ کر مسافرحیرت زدہ رہ جاتے ہیں ۔ وہ کچھ عجیب سا محسوس کرتے ہیں ،لیکن آج کے بدلے ماحول میں اسے تسلیم کرلیاجاتا ہے۔

آج ماحول بدل گیا ہے، خواتین نے مردوں کا پیشہ اختیار کیا ہے اور ایک تنگ ذہنیت والی سوسائٹی سے بھی نکل رہے ہیں اور زندگی میں نئے طول و عرض بھی پیش کرتے ہیں۔ ممبئی میں یہ خواتین رات کی زندگی کا حصہ بن رہی ہیں، یہ خواتین بھی حفاظت کے بارے میں محتاط ہیں اور انکا خیال ہے کہ اب وہ اس سب سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ان ٹیکسیوں میں جی پی ایس نصب ہوجانے کے سبب ان کی حفاظت مستحکم ہوچکی ہے۔ رضوانہ شیخ ایک 7سالہ بچے کی ماں ہیں اور پہلے وہ ایک بیوٹیشن تھیں اور ماہانہ 30تا40ہزار روپے آمدنی ہوجاتی تھی لیکن یہ زیادہ منافع بخش ہے جوکہ گھرکی ضرورت کیلیے ضروری ہے۔رات میں جب کوئی تفریح اور منچلا شخص ٹیکسی بک کرتا ہے تو وہ انکارکردیتی ہیں۔ان کے شوہر اور دیگر اہل خانہ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

حوصلہ کو سلام ! یہاں برقعہ پوش مسلم خواتین دن میں کرتی ہیں گھریلو کام اور رات میں بن جاتی ہیں ایپ ٹیکسی ڈرائیور

علامتی تصویر: رائٹرز۔

ممبئی کے مغربی مضافات جوگیشوری کی ایک اور 42سالہ خاتون مہ جبیں گزشتہ چھ سال سے ٹیکسی ڈارائیور ہیں اور رات میں بلاخوف وخطر ڈارئیونگ کرتی ہیں ۔ان کے شوہر مارکٹنگ کرتے ہیں ،رات 8بجے سے صبح تک وہ شہر کی سڑکوں پر گھومتی ہیں اور بخوبی اپناکام کرتی ہیں ،ان کے شوہر اور اہل خانہ نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے۔ ٹیکسی کمپنیوں نے شہر میں ان کی گاڑیوں میں ڈرائیونگ کرنے والی خواتین کی تعداد بتانے سے انکار کردیا ،لیکن اس کا اظہار کیا کہ 40فیصدخواتین حصہ دار ہیں اور رحجان بڑھ رہا ہے۔ایک دوسری 25 سالہ ودیا شیلی بھی ایک کامیاب ڈرائیورہیں اوروویا نے کہا کہ وہ اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ رہتی ہے، گزشتہ 6 ماہ سے وہ آٹو چلا رہی ہیں ۔ اسی طرح 23 سالہ پرجاکتا سالنکے بھی ڈرائیونگ کررہی ہیں اور یہ کام حفاظت کے پیش نظر ان کے لیے ایک نعمت ثابت ہورہا ہے اور اس میں دلچسپی بڑھتی جارہی ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز